ہفتہ‬‮ ، 25 جولائی‬‮ 2026 

’’کرپشن کی رقم کا کچھ حصہ واپس کرکے معافی کا نیب قانون ‘‘ رقم واپسی سے جرم ختم نہیں ہوتا،سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کو قانون میں ترمیم کیلئے کب تک کی مہلت دیدی؟

datetime 20  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کو نیب پلی بارگین قانون میں ترمیم کیلئے فروری کے پہلے ہفتے تک مہلت دیدی، دی گئی مہلت تک ترمیم نہ ہوئی تو سپریم کورٹ خود فیصلہ کرے گی، جسٹس عظمت سعید کے ریمارکس۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب کے پلی بار گین قانون میں ترمیم کیلئے پارلیمنٹ کو فروری کے پہلے ہفتے تک مہلت دیدی ہے ۔

عدالت میں سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ عدالت کی طرف سے دی گئی مہلت تک ترمیم نہ ہوئی تو سپریم کورٹ خود فیصلہ کرے گی۔ عدالت کو قانون کالعدم قرار دینے کا مکمل اختیار ہے۔ جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں ترمیم بھی عدالت کو ہی کرنا پڑے گی، لیبر پارٹی برطانیہ نے اپنی رکن پارلیمنٹ کو اوور سپیڈنگ پرمعطل کر دیا تھا، ہمیں پتا نہیں کونسی کہانیاں سنائی جا رہی ہیں، رضاکارانہ رقم واپسی سے جرم ختم نہیں ہو سکتا، رضاکارانہ رقم واپسی دراصل اعتراف جرم ہوتا ہے۔جسٹس عظمت سعید نے کہا پاکستان کے قانون میں انتظامی حکم سے جرم ختم کرنے کی گنجائش نہیں، نیب تو انکوائری شروع کر کے لوگوں کو رضاکارانہ رقم واپسی کیلئے خط لکھتا تھا، سڑکوں پر آواز لگائی جاتی تھی کرپشن کر لو اور معافی لے لو۔جسٹس عظمت سعید نے کہا پاکستان کے قانون میں انتظامی حکم سے جرم ختم کرنے کی گنجائش نہیں، نیب تو انکوائری شروع کر کے لوگوں کو رضاکارانہ رقم واپسی کیلئے خط لکھتا تھا، سڑکوں پر آواز لگائی جاتی تھی کرپشن کر لو اور معافی لے لو۔ سپریم کورٹ نے نیب کے رضاکارانہ رقم واپسی کے قانون پر از خودنوٹس کی سماعت فروری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ نیب کے پلی بار گین قانون کے تحت ملزمان رضاکارانہ طور پر رقم کا کچھ حصہ واپس کر کے کارروائی سے بچ جاتے تھے اور ایک بار پھر عوامی و سرکاری عہدوں پر فیصلہ نہ ہونے کے باعث براجمان ہو جاتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…