جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

ایک سال میں دو دفعہ بجٹ اور اب تیسرے کی تیاری زرداری اور شہباز کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں عمران خان خود گر رہے ہیں پیپلزپارٹی نے وزیراعظم کو ابتک کی سب سے بڑی پیش کر دی

datetime 18  دسمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ آصف زرداری، شہباز شریف یا ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ، عمران خان کی حکومت تو خود گر رہی ہے،ان کی پارٹی کے اپنے لوگ ان سے ناراض ہو چکے ہیں، ابھی کراچی سے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی 11 سیٹیں چھینی وہ نہیں ملیں گی، ہم نیب قانون میں ترمیم سمیت ہر اس چیز کے لیے تیار ہیں،

کہ ایک سال میں دو دفعہ بجٹ لے آئے اور اب تیسرے کی تیاری ہے ۔منگل کو مڈٹرم انتخابات کے امکانات پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ ہمیں عمران خان حکومت کو گرانے کی کیا ضرورت ہے وہ تو خود گر رہے ہیں، ان کے پاس آج بھی جو اکثریت ہے وہ اپنی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو چاہتے ہیں کہ نظام چلے مگر اگر مڈٹرم الیکشن ہوتا ہے تو یہ دوبارہ آنے کا سوچیں بھی نہیں، مڈٹرم انتخابات ہوئے تو کیا یہ 2013والی 35سیٹیں بھی لے پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی کراچی سے ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کی 11سیٹیں چھینی وہ نہیں ملیں گی، تحریک لبیک کو لانے سے انہیں 30کے قریب اضافی نشستیں ملیں، ان کی پارٹی کے اپنے لوگ ناراض ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ سوچیں بھی نہیں کہ آنے والے الیکشن میں گزشتہ ماحول ہو گا، عمران حکومت کو گرانے کی کیا ضرورت ہے، یہ اپنے دشمن خود ہیں، ان کی پالیسیاں حکومت کرنے کا رویہ طریقہ کار ہی کافی ہے،ان کی کابینہ ایسی تنظیموں سے ملاقاتیں کر رہی ہے جو شک کے دائرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے، اپنی غلطیوں کو چھپا رہے ہیں، ہم نیب قانون سمیت ہر اس چیز کیلئے تیار ہیں جس سے پاکستان بہتر ہو سکتا ہے، یہ کرپشن کا نعرہ صرف دکھاوے کیلئے استعمال کررہے ہیں، مگر ان سے یہ نہیں بچیں گے، دو دفعہ بجٹ لے آئے تیسرے کی تیاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تیل کی قیمت پر عوام کو لوٹ رہے ہیں، 2011-12میں دنیا میں تیل کی قیمت 110ڈالر بیرل تھی جکہ ملک میں 94روپے لیٹر تھی، آج دنیا میں تیل 60ڈالر فی بیرل ہے اور ملک میں 114 روپے فی لیٹر ہے، انہیں صرف تیل سے اربوں روپے اضافی مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوریا کھاد کی قیمت 1300روپے تھی، آج1800روپے ہے، ڈی اے پی کی بوری 2800روپے تھی آج 3800روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکار مررہا ہے، اسے فصل کی صحیح قیمت نہیں مل رہی ہے، وفاقی حکومت کسان کو امدادی قیمت دینے پر تیار نہیں ہے، زرداری صاحب، شہباز شریف یا ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں یہ خود کر رہے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…