اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں اخبارات دھڑا دھڑ بند ہونے لگے ڈان، جنگ اور ایکسپریس گروپس نے اپنے کونسے اخبارات اور ایڈیشن بند کر دئیے ؟ پورے ملک میں حیران کن صورتحال

datetime 18  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں اخبارات دھڑا دھڑ بند ! ہزاروں لوگ بے روز گار ، جاری اخبارات بھی سٹاف کی چھانٹی کر نے لگے، ضخیم شمارے انتہائی کم صفحات کے ہو گئےہیں۔ نجی ٹی وی پروگرام میں معروف صحافی و پروگرام کے میزبان کامران خان نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان میں جہاں الیکٹرانک میڈیا مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے مگر اخباری صنعت

اس وقت شدید مالی بحران سے دوچار ہو چکی ہے، پرنٹ میڈیا کا شمار اب بیمار صنعتوں میں کیا جا سکتا ہے، دو چار صفحات پر مشتمل دوسرے درجے کے شام کے اخبارات اب اخباری صنعت کے نامی گرامی گروپس کے مختلف شہروں میں اردو ، انگریزی کے ایڈیشن دھڑا دھڑ بند ہو رہے ہیں گویا کہ اخبارات کے بند ہونے کا ایک سلسلہ شروع ہو چکا ہے، تین روز قبل جنگ گروپ کے چھ اخبارات کو بند کیا گیا جس کے بعد 500صحافتی اور اخباری کارکنوں کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑیگا۔ بند کئے جانے والے اخبارات میں روزنامہ عوام، ڈیلی نیوزکراچی، آواز لاہور، جنگ پشاور، جنگ فیصل آباد کے ایڈیشن شامل ہیں، روزنامہ انقلاب اور وقت اخبار بھی بند کر دیا گیا ہے، اسلام آباد سے جاری ہونیوالے اخبار وفاق کو بھی بند کیا گیا ہے۔ جبکہ انگریزی ہفت روزہ میگ کی بندش کی بھی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ صرف جنگ گروپ ہی نہیں بلکہ ایکسپریس گروپ نے بھی اپنا شام کا اخبار انصاف ٹائمز بند کر دیا ہے، روزنامہ ایکسپریس نے کوئٹہ اور ملتان سے اپنی اشاعت بند کر دی ہے۔ شام کے دوسرے اخبارات جیسے سٹار اور لیڈر بھی بند ہو چکے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ڈان گروپ جیسا ادارہ نیوز میگزین ’’ہیرالڈ‘‘کو بند کرنے پر مجبور ہے اور کہا گیا ہے کہ جنوری کا شمارہ شاید ’’ہیرالڈ‘‘کا آخری شمارہ ہو گا۔ 30، 30صفحات پر مشتمل ضخیم شمارے اور اخبارات، 4

یا 6صفحات پر مشتمل پرچوں میں بدل چکے ہیں، اس کی وجہ سے اخباری صنعت سے وابستہ ایڈیٹرز، رپورٹرز، پروف ریڈرز، پرنٹنگ پریس کے عملے بلکہ ہاکرز تک کیلئے مشکل صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ بلاشبہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی وجہ سے بہت سے لوگ اخبارات پڑھنے کی لت سے دور ہو گئے ہیں۔ چند برسوں سے اخباری قارئین کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے اور اخبارات کی بندش کے بعد اخباری اداروں میں صحافتی و اخباری کارکنوں کی برطرفیوں کا عمل اب جاری ہے۔ جہاں ایک طرف میڈیا کی صنعت کیلئے یہ وقت بہت برا ہے وہاں دنیا بھر میں عمومی طور پر یہ وقت پرنٹ میڈیا کیلئے انتہائی مشکل اور نامساعد ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…