اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

حکومتی اتحادی جماعتوں کی بغاوت،بی این پی مینگل کے بعد ایم کیو ایم نے بھی تحریک انصاف کو بڑا سرپرائز دے دیا،کھلبلی مچ گئی

datetime 17  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن نے خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر مسلسل تیسرے روز ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جبکہ حکومتی اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم پاکستان اور بی این پی مینگل نے بھی خوجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اپوزیشن اور حکومتی اتحادی جماعتوں کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم آئین اور قانون کیساتھ کھڑی ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ جمہوری روایات کو برقرار رکھا جائے

اس لئے خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں،بی این پی کا اصولی موقف ہے کہ خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں،جب تک خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے جائیں گے اپوزیشن واک آؤٹ کرتی رہے گی۔پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ آج 6 دن ہو گئے ہیں ہم درخواست کر رہے ہیں کہ خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں ۔انہوں نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ میں اس حوالے سے ایوان کو مایوس نہیں کروں گا ، ہماری ایک بار پھر درخواست ہے کہ خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں ، پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا آپ کے پاس اختیار ہے ۔پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں، جس طرح پی اے سی چیئرمین کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوا اس طرح خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے حوالے سے بھی معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے ، ایم ایم اے کے مولانا جمال الدین نے کہا کہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر فوری جاری کئے جائیں ۔ایم کیو ایم کے امین الحق نے کہا نے مطالبہ کیا کہ خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں ، ایم کیو ایم اس وقت حکومت کی اتحادی جماعت ہے

مگر ایم کیو ایم کا اپنا ایک نظریہ اور منشور ہے ، ایم کیو ایم آئین اور قانون کیساتھ کھڑی ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ جمہوری روایات کو برقرار رکھا جائے اس لئے خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں ، ہمیں مثبت روایات کو آگے بڑھانا چاہیے ، آج وہ حکومت میں ہیں انہیں پوری زندگی حکومت میں نہیں رہنا اپوزیشن میں بھی جانا ہے ۔ اے این پی کے امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ الزام لگا دینے سے کوئی مجرم نہیں بن جاتا، نیب کی جانب سے حکومت اور اپوزیشن میں سے

جس جس پر تحقیقات کی جا رہی ہیں میں ان کو مجرم نہیں سمجھتا ، ہمارا مطالبہ یہ نہیں کہ خواجہ سعد رفیق کو رہا کیا جائے یا ان پر موجود کیس کو ختم کیا جائے ، ہمارا صرف یہ مطالبہ ہے کہ ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں ۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں اور انہیں اسمبلی لایا جائے ، یہ ہمارا اصولی موقف ہے ۔فاٹا سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی علی وزیر نے بھی کہا کہ خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…