اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

تبدیلی کا عملی تجربہ، ایک ہفتے سے پانی نہیں مل رہا تھا اور پھر وزیراعظم کے ’’سٹیزن پورٹل‘‘ میں کمپلینٹ کروا دی، اس کے بعد کیا ہوا؟ اسلام آباد کے شہری کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 16  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بہت سے سرکاری محکموں میں جائز کام بھی کروانا نہایت مشکل ہے، شہری کلرکوں کی منتیں ترلے کر رہے ہوتے ہیں اور کلرک بادشاہ شہریوں کو چکر لگواتا رہتا ہے، ایک شہری رمیض صدیقی نے سوشل میڈیا پر انکشاف کیا کہ ایک ہفتے سے پانی نہیں مل رہا تھا، سی ڈی اے کے لائن مین نے کہا کہ جاؤ جو کرنا ہے کر لو،

رمیض صدیقی نے فیس بک پر اس تبدیلی کے بارے میں لکھا کہ آج میں نے سی ڈی اے کے خلاف ایک شکایت کی، وہ ایک ہفتے سے پانی سپلائی نہیں کر رہے تھے اور رمیض صدیقی نے بتایا کہ جب میں ٹیوب ویل پہنچا تو معلوم ہوا کہ انہیں سملی ڈیم سے پانی مل رہا ہے مگر ایسا محسوس ہوا کہ یہ پانی گھروں کو دینے کی بجائے کاروباری مراکز کو دے رہے ہیں، رمیض صدیقی نے بتایا کہ وہاں موجود لائن مین نے انتہائی ناروا رویہ اختیار کیا اور کہا کہ جو کر سکتے ہو کر لو اس پر میں نے شکایت وزیراعظم سٹیزن پورٹل پر شکایت رجسٹرڈ کروائی، صرف چار گھنٹوں کے اندر اس پر عملدرآمد ہوتے دیکھا اور اسی لائن مین نے فون کیا اور کہا کہ آپ نے وزیراعظم کو شکایت کردی، ڈی جی نے مجھے ڈائریکٹ فون کرکے باتیں سنائیں، اس لائن مین نے کہاکہ میری نوکری کا کیا ہوگا اور اس کا انداز ایسا تھا کہ یہ اب پانی فراہم کرے گا، رمیض صدیقی نے کہا کہ یہی نہیں بلکہ سی ڈی اے کی طرف پانی کا ٹینکر بھجوا دیا گیا اور ٹینکر والے نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے کہاں کال کی کہ وزیراعظم کے دفتر سے کال آئی کہ فوراً پانی پہنچاؤ۔ رمیض صدیقی نے کہاکہ میں نے گزشتہ پانچ سالوں میں تحریک انصاف کو تین مرتبہ ووٹ دیا، مجھے پہلی مرتبہ ایسا محسوس ہوا کہ ایک شہری کے طور پر تبدیلی کے لیے میرے ووٹ کی بھی طاقت ہے، اس موقع پر رمیض صدیقی نے وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کسی تعلق کے بغیر سٹیزن پورٹل کے ذریعے اس قابل ہوا کہ اپنا مسئلہ حل کر لوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…