اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

تبدیلی کا عملی تجربہ، ایک ہفتے سے پانی نہیں مل رہا تھا اور پھر وزیراعظم کے ’’سٹیزن پورٹل‘‘ میں کمپلینٹ کروا دی، اس کے بعد کیا ہوا؟ اسلام آباد کے شہری کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 16  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بہت سے سرکاری محکموں میں جائز کام بھی کروانا نہایت مشکل ہے، شہری کلرکوں کی منتیں ترلے کر رہے ہوتے ہیں اور کلرک بادشاہ شہریوں کو چکر لگواتا رہتا ہے، ایک شہری رمیض صدیقی نے سوشل میڈیا پر انکشاف کیا کہ ایک ہفتے سے پانی نہیں مل رہا تھا، سی ڈی اے کے لائن مین نے کہا کہ جاؤ جو کرنا ہے کر لو،

رمیض صدیقی نے فیس بک پر اس تبدیلی کے بارے میں لکھا کہ آج میں نے سی ڈی اے کے خلاف ایک شکایت کی، وہ ایک ہفتے سے پانی سپلائی نہیں کر رہے تھے اور رمیض صدیقی نے بتایا کہ جب میں ٹیوب ویل پہنچا تو معلوم ہوا کہ انہیں سملی ڈیم سے پانی مل رہا ہے مگر ایسا محسوس ہوا کہ یہ پانی گھروں کو دینے کی بجائے کاروباری مراکز کو دے رہے ہیں، رمیض صدیقی نے بتایا کہ وہاں موجود لائن مین نے انتہائی ناروا رویہ اختیار کیا اور کہا کہ جو کر سکتے ہو کر لو اس پر میں نے شکایت وزیراعظم سٹیزن پورٹل پر شکایت رجسٹرڈ کروائی، صرف چار گھنٹوں کے اندر اس پر عملدرآمد ہوتے دیکھا اور اسی لائن مین نے فون کیا اور کہا کہ آپ نے وزیراعظم کو شکایت کردی، ڈی جی نے مجھے ڈائریکٹ فون کرکے باتیں سنائیں، اس لائن مین نے کہاکہ میری نوکری کا کیا ہوگا اور اس کا انداز ایسا تھا کہ یہ اب پانی فراہم کرے گا، رمیض صدیقی نے کہا کہ یہی نہیں بلکہ سی ڈی اے کی طرف پانی کا ٹینکر بھجوا دیا گیا اور ٹینکر والے نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے کہاں کال کی کہ وزیراعظم کے دفتر سے کال آئی کہ فوراً پانی پہنچاؤ۔ رمیض صدیقی نے کہاکہ میں نے گزشتہ پانچ سالوں میں تحریک انصاف کو تین مرتبہ ووٹ دیا، مجھے پہلی مرتبہ ایسا محسوس ہوا کہ ایک شہری کے طور پر تبدیلی کے لیے میرے ووٹ کی بھی طاقت ہے، اس موقع پر رمیض صدیقی نے وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کسی تعلق کے بغیر سٹیزن پورٹل کے ذریعے اس قابل ہوا کہ اپنا مسئلہ حل کر لوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…