بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

نئے پاکستان میں ہوگا اب ہر گھر روشن ۔۔!!!پی ٹی آئی حکومت نے ایسا فیصلہ کرلیا کہ آپ بھی تعریف کرنے پر مجبور ہوجائینگے

datetime 15  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد( آن لائن )متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے مختلف منصوبہ جات پر200 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جائے گی جن کی تکمیل سے154 میگاواٹ ماحول دوست اور شفاف توانائی قومی گرڈ میں شامل ہوگی۔ متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے یہ منصوبے سندھ اور خیبرپختونخوا میں لگائے جائیں گے اس حوالے سے نیپرا سے جنریشن لائسنس کے حصول کیلئے درخواستیں بھی جمع کروا دی گئی ہیں۔

نیپرا کی رپورٹ کے مطابق سینوول پرائیویٹ لمیٹڈ ہوا کی مدد سے 50 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے سندھ کے علاقہ جھم پیر میں پلانٹ لگائے گی جس پر85.4 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی، یہ منصوبہ جون2020 تک مکمل ہوگا۔ اسی طرح شفیع انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ بھی ٹھٹھہ سندھ میں ہوا کی مدد سے 50 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے75.07 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی یہ منصوبہ جون2021 میں مکمل ہوگا۔رپورٹ کے مطابق جاوید سولر پارک پرائیویٹ لمیٹڈ ڈیرہ اسماعیل خان کے پی کے میں شمستی توانائی سے 49.5 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے49.27 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی ، یہ منصوبہ دسمبر2019 تک مکمل کرلیا جائے گا۔ مزید برآں گریڈ ایج پرائیویٹ لمیٹڈ2 میگاواٹ بجلی شمسی توانائی سے پیدا کرے گی جس پر168.12 ملین روپے کی سرمایہ کاری ہوگی اسی طرح کمپنی شمسی توانائی سے 2.67 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کیلئے لاہور میں بھی 250 ملین روپے کی سرمایہ کاری کرے گی متبادل ذرائع سے بجلی کے پیداواری منصوبہ جات کی تکمیل سے توانائی کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…