اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

علیمہ خان کی جائیدادیں ہم نے بے نقاب کی تھیں اس لیے وصول ہونے والے پیسے میں سے اب ہمیں ہمارا 20 فیصد حصہ دیا جائے، معروف صحافی نے بڑا مطالبہ کر دیا

datetime 14  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان اور سینیٹر وقار کی دبئی میں جائیدادوں سے متعلق ہم نے سب سے پہلے بتایا، اس لیے اس پیسے میں سے اب ہمیں ہمارا بیس فیصد حصہ دیا جائے، یہ بات معروف صحافی رؤف کلاسرا نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہی، انہوں نے کہا کہ علیمہ خان کو 29.4 ملین روپے ایف بی آر میں جمع کروانے کا حکم دیا گیا ہے

اس رقم میں ہمارا حصہ بھی ہونا چاہیے، انہوں نے کہا کہ یہ تو وہی بات ہو گئی کہ محنت کرے فاختہ اور انڈے کھائے کوے۔ معروف صحافی نے اس موقع پر مسکراتے ہوئے کہا کہ ساری محنت ہم نے کی اور جرمانہ ایف بی آر کو جائے گا، جائیدادیں ہم نے بے نقاب کیں اس لیے اس جرمانے میں ہمارا بھی بیس فیصد بنتا ہے، انہوں نے کہا کہ اس سے قبل عاصمہ ارباب عالمگیر بھی ہمارے چار فلیٹ کھا گئی ہیں، عاصمہ ارباب عالمگیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مجھے میرے ذرائع نے تین سال قبل کچھ دستاویزات فراہم کی تھیں میں نے ان کو تصدیق کے لیے لندن بھجوایا، روؤف کلاسرا نے کہا کہ ہم نے ان سے کہا تھا کہ آپ کی لندن میں جائیداد ہے، انہوں نے بتایا کہ ایک چینی کمپنی سے ارباب عالمگیر اور ان کی اہلیہ نے 25 لاکھ ڈالر کے قریب ہانگ کانگ میں ڈرافٹس لیے جنہیں انہوں نے بعد میں دبئی سے کیش کروا کر لندن میں جائیداد خریدی۔ معروف صحافی نے کہا کہ عاصمہ ارباب عالمگیر سے جب اس وقت سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر آپ لندن میں میرے چار فلیٹس ڈھونڈ دیں اور ثابت کر دیں تو آپ کو میں چاروں فلیٹس دے دوں گی، معروف صحافی نے بتایا کہ اس کے بعد ہم اس کیس کے پیچھے لگ گئے اور ان چاروں فلیٹس کی ہم نے تصدیق کر دی، انہوں نے بتایا کہ اب نیب نے بھی ان کے خلاف ریفرنس بھیج دیا ہے جس میں ایسی کئی جائیدادوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…