اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

جس کو شراب پینی ہوتی ہے وہ کہیں سے بھی پی لیتا ہے، سستی شہرت کیلئے قرارداد لانے کی کوشش کی گئی،فواد چوہدری حکومتی رکن اسمبلی پر ہی برس پڑے،بڑا دعویٰ کردیا

datetime 11  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جس کو شراب پینی ہوتی ہے وہ کہیں سے بھی لے کر پی لیتا ہے۔تفصیلات کے مطابق ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیر صدارت ہوا جس میں حکومتی اقلیتی رکن رمیش کمار نے شراب کے لائسنس کی منسوخی کا بل پیش کیا اور اس پر رائے شماری کرانے کا مطالبہ کیا۔حکومتی رکن کے بل کی حمایت متحدہ مجلس عمل کے ارکان نے بھی کی جب کہ رمیش کمار نے کہا کہ شراب تمام مذاہب میں حرام ہے لہٰذا اس کی فروخت بند کی جائے۔

پارلیمانی سیکرٹری قانون ملیکہ بخاری نے کہا کہ ایسا بل پہلے بھی پیش ہو چکا ہے مگر نتیجہ نہیں نکلا لہٰذا بل متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا جائے۔حکومتی رکن نے بل پر ووٹنگ کرانے کا مطالبہ کیا لیکن بل پر ڈپٹی اسپیکر نے رائے لی اور کثرت رائے سے بل پیش کرنے سے روک دیا گیا۔اس حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ سستی شہرت کیلئے شراب کی قرارداد لانے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ جس کو شراب پینی ہوتی ہے وہ کہیں سے بھی پی لیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…