پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

دریائے سندھ پر کسی قسم کا ڈیم قبول نہیں کرینگے ، پارلیمنٹ چیف جسٹس کیخلاف کارروائی کرے،اہم سیاسی شخصیت نے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 10  دسمبر‬‮  2018 |

حیدرآباد(آن لائن) سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا ہے کہ دریائے سندھ پر کسی قسم کا ڈیم قبول نہیں کرینگے ۔ چیف جسٹس عدالتوں کے معاملات دیکھنے کے بجائے دیگر مسئلوں میں پھنسے ہوئے ہیں ، وہ ڈیم کی تعمیر کیلئے چندہ مہم چلارہے ہیں ، انہوں نے لندن جاکر چندا جمع کیا ، ہم پارلیمنٹ سے کہتے ہیں کہ وہ چیف جسٹس کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کریں ،

حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس جنوری میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہوں گے پھر ان سے پوچھیں گے کہ ڈیم کی چوکیداری کیسی چل رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آرٹیکل 6مجھ پر لگائے پھر ڈیم بنالیں، پورے سندھ کے عوام ڈیم کیخلاف نکلیں گے سب پر آرٹیکل 6لگاکر انہیں جیلوں میں بھیج دیں۔ ملک میں پانی میں اضافے کی ضرورت ہے نہ کہ پانی کو قید کرناہے۔ جوڈیم دریائے سندھ پر بنے گا وہ سندھ میں خشک سالی کا سبب ہوگا۔ ہم اپنی نسلوں کو قحط سالی میں نہیں دھکیل سکتے، سندھ کا بچہ بچہ ڈیم کیخلاف اٹھ کھڑا ہوگا۔ سندھ کی گلی گلی، چپے چپے میں ڈیم مخالف تحریک چلائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے کہا تھا کہ ہماری حکومت مکمل جمہوری ہوگی، ہر طرف خوشحالی ہوگی لیکن یہ آمریت سے بھی بدتر حکومت ہے ، ان کے 100دن کی کارکردگی میں ان کے سارے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے اور ان کی حکمرانی کا بھانڈا پھوٹ گیاہے۔کہا کہ عمران خان کٹھ پتلی وزیراعظم ہیں جو بیرونی اشاروں پر چلتے ہیں ۔ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے نتیجے میں سندھ میں آنے والے پناہ گزیروں کو سندھ میں ووٹ ڈالنے کا حق نہیں دیا جانا چاہئے۔ سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا ہے کہ دریائے سندھ پر کسی قسم کا ڈیم قبول نہیں کرینگے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…