بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

وہ وقت جب دور آمریت میں شریف خاندان جیل میں ڈال دیا گیا ،لیکن کلثوم نواز ڈٹ گئیں اور تحریک شروع کردی، انتظامیہ نے ان کو گاڑی سمیت کرین سے اٹھا لیا تھا اور پھر۔۔

datetime 12  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز گزشتہ روز لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک میں انتقال کر گئی ہیں۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھیں اور گلے کے کینسر میں مبتلا تھیں ۔ ان کی میت جمعہ کے روز پاکستان لائی جائے گی جبکہ جمعرات کے روز ریجنٹ پارک لندن میں ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ کلثوم نواز کو جاتی امرا میں شریف خاندان کے سربراہ مرحوم میاں محمد شریف

کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔ بیگم کلثوم نواز شریف خاندان میں نمایاں مقام رکھتی تھیں۔ ان کی تمام زندگی اپنے خاندان سے محبت سے عبارت رہی ۔ پرویز مشرف دور میں جب ان کے شوہر اور بچوں سمیت خاندان کے دیگر افراد کو قید کر لیا گیا تو اس وقت بیگم کلثوم نواز ملک کی وہ واحد سیاستدان ثابت ہوئیں جنہوں نے آمریت کو للکارا۔ وفاقی دارالحکومت ہو یا لاہور اور ملک کے دیگر علاقوں میں سرگرمیاں، بیگم کلثوم نواز نے کارکنوں او رپارٹی ورکروں کا حوصلہ بلند رکھا۔ اسلام آباد میں انہوں نے سیکٹر ایف ٹین کے ایک بنگلے کو اپنی رہائش گاہ بنایا جو کہ آمریت مخالف سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ جس وقت بڑے بڑے سیاستدان فوجی آمریت سے خوفزدہ تھے اس وقت ایک گھریلو خاتون میدان عمل میں اتری اور اس نے بے خوفی اور بہادری کیساتھ مقابلہ کیا۔ وہ 1999سے 2002تک مسلم لیگ ن کی صدر رہیں۔ اس دوران ایک بڑا مشہور واقعہ بھی پیش آیا۔ بیگم کلثوم نواز کی سرگرمیوں نے فوجی آمر پرویز مشرف کی نیندیں حرام کر دی تھیں ۔ کلثوم نواز کو 8 جولائی 2000 میں ریلی کی قیادت کرنی تھی اور اسے روکنے کیلئے ان کے گھر کے باہر اور دیگر مقامات پر سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی نفری تعینات کی گئی تھی تاہم کلثوم نواز اپنی سفید رنگ کی کرولا گاڑی میں گھر سے نکلیں اور پولیس نے انہیں روک لیا لیکن بیگم کلثوم نواز نے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا اسی دوران جب پولیس کی انہیں گاڑی سے نکالنے کی تمام کوششیں بے سود ہو گئیں تو ان کی گاڑیوں کو کرین بلوا کر اٹھوا لیا گیا اور اس وقت بھی وہ گاڑی میں موجود رہیں اور اس حالت میںانہوں نے تقریبا 10 گھنٹےگزارے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…