جمعرات‬‮ ، 12 مارچ‬‮ 2026 

5128لوگ صرف بلوچستان سے لاپتہ ہیں، کسی کے ووٹ غائب ہوجاتے ہیں تو احتجاج کیا جاتا ہے، اخترمینگل کے صبر کا پیمانہ لبریز ،کھری کھری سنادیں،عمران خان کو انتباہ

datetime 17  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد( آئی این پی) قومی اسمبلی میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل )کے سربراہ اخترجان مینگل نے کہا ہے 5ہزار ایک سو28 لوگ صرف بلوچستان سے لاپتہ ہیں، کسی کے ووٹ غائب ہوجاتے ہیں تو احتجاج کیا جاتا ہے ان سے جا کر پوچھیں جن کے بچے غائب ہو جاتے ہیں ، ان ماؤں سے پوچھیں جن کے بچوں کی مسخ شدہ لاشیں گرائی جاتی ہیں ، جب ہمارے لوگ احتجاج کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ آپ غدار ہیں ،

میں چالیس سال سے اپنے بھائی کی لاش تلاش کر رہا ہوں ، کس پر الزام ڈالوں ، دس دس سالوں سے لوگ غائب ہیں ، ہمارے گلے بیٹھ گئے ہیں لیکن حکمرانوں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی، ہم حکومت کے صحیح اقدام کی حمایت کریں گے ، ہمارے چھ مطالبات مان لئے جائیں تو ہم حکومت کی حمایت کرتے رہیں گے ، ہم اس بار دھوکہ نہیں کھائیں گے ۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کر تے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ انتخابات کے نتائج کچھ آر او کی نظر ہوگئے اور کچھ فارم 45کی نظر ہوگئے ، کسی کے ووٹ غائب ہوجاتے ہیں تو احتجاج کیا جاتا ہے ان سے جا کر پوچھیں جن کے بچے غائب ہو جاتے ہیں ، ان ماؤں سے پوچھیں جن کے بچوں کی مسخ شدہ لاشیں گرائی جاتی ہیں ، جب ہمارے لوگ احتجاج کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ آپ غدار ہیں ۔ اختر مینگل نے کہا کہ میں نے ابھی تک وزیراعظم کو مبارکباد نہیں دی ،میں مبارکباد تب دوں گا جب وہ اپنے فرائض کو خوش اسلوبی سے انجام دے پائیں گے ، وزیراعظم ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ۔ اختر مینگل نے کہا کہ ابھی تو ہم امتحان کے مراحل میں ہیں ،امید ہے کہ جو وعدے کئے گئے ہیں ان پر پورا اتریں گے ،ہمیں ایک نیشنل ایجنڈا طے کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ مشرف کے دور میں بھی میڈیا کے وہ حالات نہیں دیکھے جو آج دیکھ رہے ہیں ، میڈیا پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے تحریک انصاف کو چھ نکات پیش کئے تھے ،

پہلا نقطہ لاپتہ افراد کی بازیابی ہے ، 5ہزار سے زیادہ لاپتہ افراد کی فہرست آج میں ریکارڈ کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہوں ، 5128صرف بلوچستان سے لاپتہ ہیں ، میں چالیس سال سے اپنے بھائی کی لاش تلاش کر رہا ہوں ، کس پر الزام ڈالوں ، دس دس سالوں سے لوگ غائب ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے گلے بیٹھ گئے ہیں لیکن حکمرانوں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کا بڑا چرچہ سنا ہے ، آج گوادر پینے کے پانی کا محتاج ہے ، ہم ترقی تو دے رہے ہیں بجلی نہیں دے پا رہے ، سوئی کی گیس ہمیں نہیں مل رہی ، قطر اور ایران سے آنے والی گیس کہاں ملے گی ۔انہوں نے کہا کہ 18ہزار نوکریاں بلوچستان کی خالی پڑی ہیں ، ہم حکومت کے صحیح اقدام کی حمایت کریں گے ، ہمارے چھ مطالبات مان لئے جائیں تو ہم حکومت کی حمایت کرتے رہیں گے ، ہم اس بار دھوکہ نہیں کھائیں گے ، اپوزیشن کا بھی جائز اقدامات پر ساتھ دیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…