بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم جوڈیشل کونسل میں مقدمے کی سماعت،جسٹس شوکت صدیقی نے بالآخر بڑا قدم اٹھا لیا،انکے خلاف درخواست دینے والا شخص کون ہے؟مجرمانہ ریکارڈ منگوانے کا مطالبہ کر دیا

datetime 17  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل کے احکامات سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیئے۔نجی ٹی وی کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس کی کارروائی ستمبر کے ابتدا میں دوبارہ ہونے کا امکان ہے مگر اس سے قبل جسٹس شوکت عزیز نے جوڈیشل کونسل کے احکامات

سپریم کورٹ میں چیلنج کردئیے ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ مجھے فیئر ٹرائل کا حق دیا جائے اور ساتھ ہی استدعا کی کہ جب تک اس درخواست کی سماعت پر فیصلہ نہیں ہوتا تب تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکی جائے۔خیال رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف سرکاری رہائش گاہ پر خلاف ضابطہ تزین آرائش کا الزام ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے عدالت عظمیٰ میں دی گئی درخواست میں کہا کہ ججز کی رہائش گاہوں پر اخراجات کی تفصیلات سے متعلق درخواست دی گئی تھی جس کی سماعت جلد بازی میں مکمل کی گئی۔انہوں نے درخواست میں بتایا کہ 30 جولائی کو ان کی درخواست خارج کر دی گئی تھی۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ میں بھی عام شہری ہوں اس لیے انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے درخواست گزار کا کرمنل ریکارڈ منگوانے کی بھی استدعا کی۔گزشتہ سال جسٹس شوکت عزیز نے سپریم جوڈیشل کونسل (اسی جے سی) میں زیرالتوا ریفرنسز کے حوالے سے اوپن ٹرائل کا مطالبہ کیا تھا۔سات نومبر 2017 کو سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کردی تھی۔یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے سابق ملازم نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے گھر کی تزئین آرائش کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ریفرنس دائر کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…