جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

عمران خان کا کزن امریکہ سے آکر گڑ بڑ کر کے چلا جاتا تھا شوکت خانم ہسپتال اچھا چل سکتا ہے تو خیبرپختونخواہ کے سرکاری ہسپتال کیوں نہیں؟ چیف جسٹس نے خٹک دورِ حکومت میںصحت سہولیات کی قلعی کھول کر رکھ دی

datetime 17  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)شوکت خانم ہسپتال اچھا چل سکتا ہے تو صوبے کے دیگر سرکاری ہسپتال کیوں نہیں، عمران خان کے کزن نوشیروان برکی صوبے کے اسپتالوں کا نظام چلا رہے تھے،وہ سارا وقت امریکا میں رہتے رہے جو کچھ وقت کیلئے پاکستان آتے اورگڑبڑ کر کے واپس چلے جاتے تھے، خیبرپختونخواہ کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں بھرتیوں میں بے ضابطگیوں اور ناقص انتظامات سے

متعلق گزشتہ روز ہونیوالی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں بنچ نے خیبرپختونخواہ کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں بھرتیوں میں بے ضابطگیوں اور ناقص انتظامات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر شوکت خانم ہسپتال اچھا چل سکتا ہے تو صوبے کے دیگر سر کاری ہسپتال کیوں نہیں چل سکتے ہیں؟ عمران خان کے کزن نوشیروان برکی صوبے کے اسپتالوں کا نظام چلا رہے تھے،وہ سارا وقت امریکا میں رہتے رہے جو کچھ وقت کیلئے پاکستان آتے اورگڑبڑ کر کے واپس چلے جاتے تھے۔ جمعرات کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تو جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ اصل ایشواسپتالوں کا فعال ہونا تھا، چیف جسٹس اور دیگر ججوں نے خوداسپتالوں کا رستہ لیا، خیبر پختونخواہ کے اسپتالوں کا برا حال تھا،سی ٹی سکین اور ایم آر آئی سمیت کوئی مشین فعال نہیں تھی، کے پی حکومت کہتی ہے کہ صوبے کے سرکاری اسپتالوں کیلئے بورڈز بنا دیے ہیں چیف جسٹس نے کہاکہ ایوب میڈیکل کمپلیکس کے آپریشن تھیٹر میں چائے بن رہی تھی، دوران سماعت ایوب میڈیکل کمپلیکس کے سربراہ نے کہاکہ بورڈز نے ہسپتالوں کی حالت

کافی بہتر کی ہے، سرکاری ہسپتالوں کی حالت میں مزیدبہتری لارہے ہیں، جس پر فاضل چیف جسٹس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جن اسپتالوں میں آپ رہے وہاں کا دورہ کرتے ہیں،اپنی کارگردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش نہ کریں ،پانچ سال حکومت رہی ہے آپ کیا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ خیبر پختونخوا کے اسپتالوں کی حالت میں بہتری آنی چاہیے، صحت ہماری اولین ترجیح ہے ہسپتالوں کو جو ضروریات ہیں ان سے آگاہ کریں۔عدالت عظمیٰ نے صوبہ کے ہسپتالوں کو دستیاب سہولیات اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی کاکردگی سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کے لئے ملتوی کردی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…