پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

مزے ختم،سابق وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری کو سرکاری رہائش گاہیں خالی کرانے کا حتمی نوٹس دیدیا ،ایک ساتھ کتنی رہائش گاہوں پر قبضہ کررکھاہے؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 14  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی )وزارت ہاؤسنگ اور سی ڈی اے نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما وسابق وفاقی وزیر کیڈ ڈویژن طارق فضل چوہدری کو 4 سرکاری رہائش گاہیں خالی کرانے کا حتمی نوٹس دے دیا ہے اور انہیں بدھ تک تمام سرکاری رہائش گاہیں خالی کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر فضل چوہدری جو 2013کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے

ان کے پاس بطور ایم این اے پارلیمنٹ لاجز میں سرکاری رہائش گاہ موجود ہے ،حالانکہ وفاقی وزیربننے کے بعد اگر کوئی وفاقی وزیر منسٹر کالونی میں سرکاری رہائش گاہ حاصل کر لیتا ہے تو اس کیلئے لازمی ہوتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ لاجز کی رہائش گاہ خالی کردے ۔ تاہم ڈاکٹر طارق فضل نے پارلیمنٹ لاجز کا قبضہ بھی اپنے پاس رکھا اور منسٹر کالونی میں گھر کے علاوہ ایک فلیٹ بھی اپنے زیر استعمال رکھا۔ منسٹر کالونی میں جو گھر تھا اس کو وہ دفتر کے طور پر استعمال کرتے رہے جبکہ لگژری فلیٹ میں انہوں نے اپنی رہائش گاہ اختیار کر رکھی تھی اور وہاں وہ اپنی فیملی کے ہمراہ رہائش پذیر رہے جبکہ ایم این اے ہاسٹل میں بھی انہوں نے ایک کمرہ حاصل کر رکھا تھا اور یہ کمرہ عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد کے کمرے کے ساتھ تھا ۔ گزشتہ روز پارلیمنٹ لاجز میں جب سابق ارکان سے لاجز خالی کرانے پر جب سی ڈی اے نے آپریشن کیا تو طارق فضل نے اپنا لاجز خالی کرنے کیلئے مہلت مانگی تھی جس کی مدت بدھ کو ختم ہو رہی ہے ۔ روایات کے مطابق اگر اسلام آباد سے منتخب ہونے والے کسی بھی رکن اسمبلی کے پاس ذاتی رہائش گاہ موجود ہو تو اسے ماضی میں سرکاری رہائش گاہ نہیں دی جاتی تھی اور دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کو پارلیمنٹ لاجز کی رہائش گاہ ترجیحی بنیادوں فراہم کی جاتی تھی تاہم طارق فضل نے اپنے اثر ورسوخ سے چار سرکاری رہائش گاہیں حاصل کر رکھی تھیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…