بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کپتان کی نئی حکومت کیلئے مشکلات اور پاک فوج کیخلاف سخت امریکی روئیے کے پیچھے کن پاکستانیوں کا ہاتھ نکلا؟امریکہ کو پاکستان اور ایران کو دانت دکھانے مہنگے پڑ گئےکیونکہ اب۔۔قومی اخبار کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

datetime 13  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ کا پاکستان، افغانستان، ایران سے متعلق نئی پالیسی بنانے پر غور، نئی پالیسی بنانے کا فیصلہ اس لئے کیا جا رہا ہے کیونکہ خطے میں وقت ساتھ ساتھ محرکات تبدیل ہوتے جا رہے ہیں، پاکستان اور ایران کے ساتھ دشمن جیسا رویہ افغانستان میں جاری امن کوششوں کو سبوتاژ کرسکتا ہے، امریکی ماہرین، تینوں ممالک کیلئے مستقل اور ٹھوس پالیسی نہ ہونا امریکی مفادات

کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے، پالیسی ساز ادارے، آئی ایم ایف کے پاکستان کو امدادی پیکیج دینے سے انکار کے پیچھے حسین حقانی، علی جہانگیر صدیقی کا کردار ہے، ذرائع، قومی اخبار کی رپورٹ۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ نے پاکستان، افغانستان، ایران سے متعلق نئی پالیسی بنانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی پالیسی ساز اداروں کا کہنا ہے کہ ان تینوں ممالک کیلئے نئی پالیسی بنانے کا فیصلہ اسلئے کیا جا رہا ہے کیونکہ اس خطے میں وقت کے ساتھ ساتھ محرکات تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی ناکامی تصور کر لیں یا کچھ اور لیکن ان تینوں ممالک کیلئے کوئی مستقل اور ٹھوس پالیسی نہ ہونا امریکی مفادات کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ امریکی تجزیاتی رپورٹس میں بھی کہا گیا ہے کہ افغان دارالحکومت کابل سے ڈیڑھ سو کلومیٹر دو جنوب مغرب میں واقع غزنی شہر میں طالبان کے ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے پیچھے پاکستان اور ایران کا نام لیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی کے امریکی اعلیٰ حکام سے رابطوں میں یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنت طالبان کے ان گروپوں کی بھی مدد کر رہی ہے جن کو اندرون خانہ ایران اور روس کی حمایت حاصل ہے۔ جب سے علی جہانگیر صدیقی کی واشنگٹن میں تعیناتی کی گئی ہے اس کے بعد سے

امریکہ نے پاکستان کیخلاف سخت اقدامات کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ واشنگٹن اور نیویارک کے معتبر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حسین حقانی اور علی جہانگیر صدیقی کی مشترکہ خفیہ کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ امریکی ایوان بالا کے پندرہ اراکین نے آئی ایم ایف کو پاکستان کو کسی قسم کا امدادی پیکیج نہ دینے کی سفارش کی ہے۔ جانز ہاپکن تھنک ٹینک سے منسلک ڈینیل مارکی کا کہنا ہے کہ

ایران کے ساتھ امریکی انتظامیہ کا رویہ افغانستان میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ مونز کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ نے ان تینوں ممالک کیلئےمزید سخت پالیسیاں بنائیں تو پھر آپ بھول جائیں کہ کوئی مثبت ردعمل سامنے آئے گا۔ پینٹا گون سمجھتا ہے لیکن وائٹ ہائوس کو ابھی تک سمجھ نہیں آرہی کہ پاکستان اور ایران کے ساتھ دشمن ممالک والا رویہ افغانستان میں جاری امن کوششوں کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔ یونائیٹڈ سٹیٹ آف پیس سے منسلک معید یوسف کا کہنا ہے کہ مزید پابندیاں لگانے سے افغانستان میں منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…