منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

گستاخانہ موادنہ ہٹائے جانے پر بات بڑھ گئی،عدالت نے ٹویٹر کو بندکرنے کا عندیہ دیدیا ، دھماکہ خیز اعلان

datetime 20  جولائی  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر سے گستاخانہ مواد نہ ہٹائے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جمعہ کو ہی ٹویٹر انتظامیہ کو خط لکھنے کا حکم دیا ہے ۔ جمعہ کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سوشل میڈیا سے گستاخانہ مواد ہٹانے کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ تاحال ٹویٹر سے گستاخانہ مواد نہیں ہٹایا گیا۔اس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2 مئی کو گستاخانہ مواد کیس کا فیصلہ سنایا، ٹویٹر پر اب بھی گستاخانہ مواد کیوں موجود ہے؟ ابھی احکامات دے کر ٹویٹر بند کرا سکتا ہوں، ٹویٹر بند ہوا تو سیاسی لیڈر روئیں گے کہ ہماری الیکشن مہم متاثر ہو گئی ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ حکام عدالتی احکامات کی روشنی میں ٹویٹر انتظامیہ کو آج ہی خط لکھیں، آئندہ سماعت تک گستاخانہ مواد ختم نہ ہوا تو پاکستان میں ٹویٹر بلاک کر دیں گے۔عدالت نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکرٹری عہدے کے افسر کو عدالتی معاون مقرر کرے اور آئی جی پولیس درخواست گزار سلمان شاہد کو مکمل سیکورٹی فراہم کریں۔ عدالت نے گستاخانہ مواد عملدرآمد کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر سے گستاخانہ مواد نہ ہٹائے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جمعہ کو ہی ٹویٹر انتظامیہ کو خط لکھنے کا حکم دیا ہے ۔ جمعہ کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سوشل میڈیا سے گستاخانہ مواد ہٹانے کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ تاحال ٹویٹر سے گستاخانہ مواد نہیں ہٹایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…