جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

سمندر پار پاکستانی آن لائن ووٹ ڈال سکتے ہیں یا نہیں؟، نادرا نے سوشل میڈیا پر آن لائن ووٹنگ کے حوالے سے اشتہار کے حوالے سے بڑا اعلان کردیا

datetime 20  جولائی  2018 |

لاہور( این این آئی )نیشنل رجسٹریشن اینڈ ڈیٹا بیس اتھارٹی ( نادرا )نے سوشل میڈیا پر پھیلی ان افواہوں کی تردید کردی ہے جس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو آن لائن ووٹنگ کے ذریعے انتخابات 2018 کی رائے شماری میں حصہ لینے کی ترغیب دی جارہی ہے۔واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے جعلی اشتہار میں بتایا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نادرا کے تعاون سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے آن لائن ووٹنگ کا نظام وضع کیا ہے۔

اشتہار میں یہ بھی کہا گیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے آن لائن رائے شماری میں حصہ لینے کے لیے قومی شناختی کارڈ، مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ اور ای میل ایڈریس کی ضرورت ہوگی۔اس کے علاوہ اشتہار میں تفصیلی طور پر دیگر معلومات فراہم کرنے کے لیے بھی کہا گیا جبکہ اس اشتہار کو شیئر کرنے پر بھی زور دیا گیا، جس کے بعد لوگوں نے بغیر تصدیق کیے اس کو شیئر کر کے سوشل میڈیا پر وائرل کردیا۔نادرا نے ان افواہوں کی سختی سے ترید کی اور کہا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر آن لائن ووٹنگ کے حوالے سے وائرل ہونے والا اشتہار گمراہ کن ہے، سمندر پار پاکستانیوں کی آن لائن ووٹنگ کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔اس ضمن میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹس کے ذریعے نادرا کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں نادرا کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو آن لائن ووٹنگ کی سہولت فراہم نہیں کی جارہی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اس حوالے سے مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جس کی آئندہ سماعت انتخابات کے بعد ہوگی جبکہ انتخابات 2018 میں سمندر پار پاکستانی آن لائن ووٹ نہیں ڈال سکتے، ووٹ ڈالنے کے لیے انہیں پاکستان آنا ہوگا۔اس حوالے سے کی گئی ایک اور ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ آن لائن ووٹنگ کا تجربہ متوقع طور پر ضمنی انتخابات میں کیا جاسکتا ہے لیکن ابھی سوشل میڈیا پر مہم کے ذریعے سمندر پار پاکستانیوں کو گمراہ کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…