جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

الیکشن شفاف نہ ہوئے تو کیا ہوگا؟لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے خطرناک پیش گوئی کردی

datetime 20  جولائی  2018 |

چکوال (این این آئی) چیئرمین دفاعی پیدوار سینیٹ کمیٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا ہے کہ نگران حکومتوں اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف انتخابات کیلئے تمام انتظامات مکمل کرے ، اب اگر شفافیت کے بارے میں انگلیاں اٹھ رہی ہیں تو ضرورت ہے کہ تمام ادارے شفاف انتخابات کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ، الیکشن شفاف نہ ہوئے تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔

چکوال پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں اظہار خیال کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی اصلی طاقت صرف اور صرف عوامی پذیرائی ہی ہوتی ہے جس کے حصول کا واحد طریقہ وہ کار کارکردگی ہے جس سے عام آدمی مستفید ہو سکے۔ اداروں کے کندھوں کے متلاشی نام نہاد سیاسی قائدین ماضی کے ان تجربات کو بھول جاتے ہیں کہ اس طرح سے اقتدار کے حصول کے بعد سیاسی جماعتیں نہ صرف اپنی حکومتی ساکھ کھو بیٹھتی ہیں بلکہ اپنی بصیرت سے ہٹ کر اس منشور پر چلنے پہ مجبور ہو جاتی ہیں جو ان کو دیا جاتا ہے اس طرح وہ ملک کے نہایت اہم اور پاکیزہ اداروں کو متنازع بنا کر اور ان کی ساکھ کو داغدار کرنے کی مضموم کوشش میں ملک کی سلامتی کو شدید خطرات سے لا حق کر دیتی ہیں اس لیے سب جماعتوں سے استدعا ہے کہ اگر آئین کی پاسداری اور جمہوریت کی مضبوطی پاکستان کی بقا کی ضامن ہے تو پھر ان اصولوں کو اپنی محدود سیاسی سوچ اور ہوس اقتدار کی بھینٹ نہ چڑھائیں مسلم لیگ ن بغیر شک کے پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول ترین جماعت ہے جس نے ماضی میں ہر پارٹی کے مینڈیٹ کو کھلے دل سے قبول کیا اور آئندہ بھی کرینگے ہم سیاسی مخاصمت کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے کے خلاف ہیں شہبازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن صرف چکوال میں نہیں بلکہ پورے پنجاب میں مضبوط ہے اور جو جماعت پنجاب میں نا قابل شکست ہے وہ مرکز میں بھی ناقابل شکست ہے ۔ جنرل عبدالقیوم نے مزید کہا کہ افواج پاکستان ملک کا اثاثہ ہیں اور ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے اور اس حوالے سے افواج پاکستان پر بھی یہ بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف انتخابات کروانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…