جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

یہ ہے پاکستان۔۔۔!!! خواتین کے ہاں سڑکوں پر بچوں کی پیدائش،جانتے ہیں ڈاکٹروں نے کس بے حسی کا مظاہرہ کیا؟

datetime 15  جولائی  2018 |

نارروال،کندھ کوٹ(مانیٹرنگ ڈیسک) نارووال اور کندھ کوٹ میں ہسپتال انتظامیہ کی بے حسی کے باعث دو خواتین اپنے بچوں کو رکشے اور سڑک پر جنم دینے پر مجبور ہوگئیں۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کے شہر نارروال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں انتظامیہ کی مبینہ بے حسی کے باعث خاتون نے ایمرجنسی کے باہر ہی دو جڑواں بچوں کو جنم دے دیا۔

متاثرہ خاتون نائلہ کے بیان کے مطابق ہسپتال انتظامیہ نے کافی دیر وارڈ میں رکھنے کے بعد آپریشن کرنے سے انکار کردیا اور ایک لیڈی ڈاکٹر نے کہا کہ لاہور یا نجی کلینک چلے جا ؤ، ہسپتال انتظامیہ کے انکارکے بعد ایمرجنسی وارڈ سے باہر نکلی تو وقت ہوگیا، ایمرجنسی کے باہر موجود عورتوں نے اپنی چادر سے پردہ کرکے ڈلیوری کروائی ۔ہسپتال میں موجود خواتین کے احتجاج کے بعد مریض خاتون کو ایمرجنسی میں داخل کرلیا گیا جب کہ ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی روسٹر کے مطابق 5 خواتین ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود تھیں پھر بھی بے حسی کی انتہا کردی گئی جس کی تحقیقات کی جائیں گی اور واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کاقانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دوسری جانب سندھ کے شہر کندھ کوٹ میں سول ہسپتال کی انتظامیہ کی بے حسی کے باعث خاتون نے رکشے میں ہی بچے کو جنم دے دیا۔ متاثرہ خاتون کے اہل خانہ کا بیان ہے کہ سول ہسپتال انتظامیہ نے لیڈی ڈاکٹر اور عملے کی عدم موجودگی کا بہانہ بنا کر ہمیں نجی ہسپتال جانے کا مشورہ دیا۔ جب نجی ہسپتال پہنچے تو ہسپتال انتظامیہ نے بھاری رقم کا تقاضہ کیا جو ہمارے پاس موجود نہیں تھی۔ ہم دوسرے ہسپتال جارہے تھے کہ متاثرہ خاتون نے گھنٹہ گھر کے قریب رکشے میں ہی بچے کو جنم دے دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…