اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان کے مالی حالات حد سے زیادہ بگڑ گئے، عام انتخابات کے بعد آنے والی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج کیا ہوگا؟ نگران وزیرخزانہ نے انتہائی تشویشناک خبر سنادی

datetime 11  جولائی  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ پاکستان کے ذمہ اندرونی اور بیرونی قرضوں کا حجم 24.5 ٹریلین روپے ہے اور اگلی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیاں ہوں گی۔ بدھ کو وزارت منصوبہ بندی کے زیر اہتمام سرکاری قرضوں کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے

نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ پاکستان کے ذمہ اندرونی اور بیرونی قرضوں کا حجم 24.5 ٹریلین روپے ہے، 30 جون تک پاکستان کے قرضے جی ڈی پی کے 72 فیصد تک پہنچ گئے اور رواں مالی سال کے آخر تک قرضے جی ڈی پی کے 74 فیصد تک پہنچ جائیں گے، قانون کے مطابق قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 60 فیصد تک ہونا چاہئیں۔انہوں نے بتایاکہ مجموعی قرضوں کا حجم قانونی حد سے 12 سے 14 فیصد اوپر چلا گیا ہے، قرضے مئی تک 16.5 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے ہیں اور بیرونی قرضوں اور واجبات کا حجم 92.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ قرضوں میں اضافے کی ایک وجہ غیر ذمے دار اور کمزور معاشی منصوبہ بندی ہے، عالمی سطح پر شرح سود بڑھنے سے پاکستان کیلئے مشکلات پیدا ہوں گی ٗ اگلی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیاں ہوں گی، موجودہ معاشی صورت حال کو سنبھالنے کے لیے ذمہ دار قیادت کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…