منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے این آر او کیس میں جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا ،اصل مقصد کیا تھا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 10  جولائی  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے این آر او کیس میں جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا جس میں اس وقت کیے گئے اقدامات کو قانونی قرار دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں این آر او (قومی مفاہمتی آرڈیننس) سے متعلق درخواست دائر کی گئی تھی جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ این آر او کی وجہ سے ملک کا اربوں کا نقصان ہوا لہٰذا قانون بنانے والوں سے نقصان کی رقم وصول کی جائے۔

عدالت نے درخواست گزار پر ابتدائی سماعت کے بعد 24 اپریل کو سابق صدور آصف زرداری اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو نوٹس جاری کیے تھے ٗ آصف زرداری اور دیگر نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب بھی جمع کرادیا ہے۔ منگل کو سابق صدر پرویز مشرف نے بھی این آر او کیس میں جواب جمع کرادیا ہے جس میں کہا گیا کہ این آر او سیاسی انتقام کے خاتمے اور انتخابی عمل شفاف بنانے کے لیے جاری کیا، این آر او کے اجراء میں کوئی بدنیتی اور مفاد شامل نہیں تھا۔جواب میں کہا گیا کہ این آر او آرڈیننس اس وقت کے حالات کو مدنظر رکھ کرجاری کیا، اس وقت کیے گئے اقدامات قانون کے مطابق تھے لہٰذا این آر او سے متعلق درخواست خارج کی جائے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے این آر او کیس میں آصف زرداری اور پرویز مشرف کے بیرون ملک اثاثوں اور جائیداد کی تفصیلات بھی طلب کررکھی ہیں۔یاد رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 5 اکتوبر 2007 کو قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری کیا جسے این آر او کہا جاتا ہے، 7 دفعات پر مشتمل اس آرڈیننس کا مقصد قومی مفاہمت کا فروغ، سیاسی انتقام کی روایت کا خاتمہ اور انتخابی عمل کو شفاف بنانا بتایا گیا تھا ٗ اس قانون کے تحت 8 ہزار سے زائد مقدمات بھی ختم کیے گئے۔این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں نامی گرامی سیاستدان شامل ہیں ٗ اسی قانون کے تحت سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کی واپسی بھی ممکن ہوسکی تھی۔این آر او کو اس کے اجرا کے تقریباً دو سال بعد 16 دسمبر 2009 کو سپریم کورٹ کے 17 رکنی بینچ نے کالعدم قرار دیا اور اس قانون کے تحت ختم کیے گئے مقدمات بحال کرنے کے احکامات جاری ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…