اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

نوازشریف کے بعد آصف علی زرداری بھی سیاست سے مائنس ،سابق صدر کی سیاسی تنہائی اور مشکلات بڑھ گئیں،ذہنی دباؤ کا بھی شکار، حیرت انگیز انکشافات

datetime 6  جولائی  2018 |

کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو سیاست سے مائنس کرنے کی کوششوں میں تیزی آگئی ،سابق صدر کی سیاسی تنہائی اور مشکلات بڑھتی جارہی ہیں ۔انتخابات دوہزار اٹھارہ کے شیڈول جاری ہونے سے قبل پنجاب اور خیبرپختونخوا کے طوفانی دورے کرکے اپنی پارٹی کا وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ لانے کی باتیں کرنے والے آصف زرداری ملک میں انتخابی ماحول بنتے ہی غیر فعال ہوگئے ہیں ۔

ذرائع کے مطابق ملکی سیاسی منظر نامے اور انتخابی میدان میں اہم ترین تبدیلیوں اور بڑے فیصلوں کا وقت ہے۔ پاکستانی سیاست سے ایک اور مائنس ون کی کوششوں کو تقویت دی جارہی ہے ۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی مائنس زرداری کی صورت پیپلزپارٹی کے ساتھ سیاسی ہمسفر بننے کا عندیہ دیدیا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کی سیاسی تنہائی اورپیپلزپارٹی کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔ آصف علی زرداری عام انتخابات دوہزار اٹھارہ کے شیڈول جاری ہونے سے قبل تک پنجاب اور خیبرپختون خوا کے طوفانی دورے کرکے جوڑ توڑ کررہے تھے اور اپنی پارٹی کا وزیراعظم اوروزیراعلی لانے کا دعوی کررہے تھے تاہم وہ حیران کن طور پرملک میں انتخابی ماحول بنتے ہی غیر فعال ہوگئے ہیں اور پیپلزپارٹی کی سرگرمیوں،عوامی اجتماعات اور خود اپنے حلقہ انتخاب سے بھی دور ہیں۔ آصف علی زرداری نے اپنے سرگرمیوں کو محدود کرلیا ہے اور صرف ٹی وی پروگرامز تک محدود ہیں ۔عام انتخابات دوہزار اٹھارہ میں پیپلزپارٹی کو پنجاب سے کوئی ہیوی ویٹ امیدوار نہیں مل سکے ہیں اور پیپلزپارٹی کا سیاسی کردار محدود ہوتا دکھائی دے رہاہے ۔پیپلزپارٹی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری حالیہ دنوں میں ذہنی دباو کا شکار ہیں اور سیاسی معاملات نتیجہ خیز انداز میں نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں جبکہ انکے دائمی امراض کی تکلیف بھی بڑھ رہی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے ایک اور ذرائع کا کہنا ہے کہ مائنس ون کا مطالبہ زور پکڑتا جارہاہے اور امکان ہے کہ پیپلزپارٹی کو مائنس ون کا دکھ جھیلنا پڑے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی سندھ مین اپنے امیدواروں کو دھمکیاں ملنے کا شکوہ کرچکے ہیں اورآصف زرداری بھی اپنے روایتی انداز سیاست میں کھل کر کھیلنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ادھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی اپنے دورہ کراچی میں اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ مائنس زرداری کی صورت پیپلزپارٹی کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا جاسکتا ہے ۔آصف علی زرداری خود این اے213 نوابشاہ کی نشست پر امیدوار ہیں اور تاحال اپنے حلقہ انتخاب میں نہیں گئے ہیں۔ انکی ہمشیرہ اور اسی علاقے سے صوبائی نشست پر امیدوار ڈاکٹر عذرا فضل بھی محدود پیمانے پر انتخابی مہم چلارہی ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلوں کی منصوبہ بندی ہورہی ہے پیپلزپارٹی کے چند سینئر رہنماؤں کے بقول خطرے کی گھنٹی کی اواز سنائی دے رہی ہے ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…