جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

سپریم کورٹ کی جانب سے بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم تعمیر کرنے اور10لاکھ روپے عطیہ کرنے کے بعد ملک بھر سے ڈیموں کی تعمیر کیلئے رقم دینے والوں کی لائن لگ گئی،دھماکہ خیز اعلان

datetime 5  جولائی  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی  (مانیٹرنگ ڈیسک) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم تعمیر کرنے کا حکم تاریخی فیصلہ ہے، چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے ڈیم کی تعمیر کے فنڈ میں 10 لاکھ روپے عطیہ کا اعلان نہ صرف قابل ستائش ہے اور پوری پاکستانی قوم کے لئے قابل تقلید بھی ہے،

ہم سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز چیف جسٹس کے اس فیصلے کی نہ صرف تائید کرتے ہیں بلکہ میں اپنی جانب سے ایک لاکھ روپے اور کے ایم سی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی ایک لاکھ روپے عطیہ کا اعلان کرتا ہوں، یہ بات خوش آئند ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے مطابق ان ڈیمز پر کسی صوبے یا شہر کے درمیان کوئی تنازع نہیں ہے اور اس کونسل نے ان ڈیم کی تعمیر کے لئے منظوری بھی دے رکھی ہے۔بھاشا ڈیم تعمیر ہونے کے بعد اس میں پانی کی گنجائش 6.4 ملین ایکڑ پانی ہوگی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ پاکستان کو پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے اگر یہ مسئلہ حل نہ کیا گیا تو پاکستان شدید مسائل کا شکار ہوسکتا ہے ہمارے ملک میں بدقسمتی سے کروڑوں بلین روپے کا پانی ضائع ہوجاتا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک سال میں 90 ملین ایکڑ پانی ضائع ہوتا ہے، حکام کے مطابق ایک ملین ایکڑ پانی کی مالیت 50 کروڑ امریکی ڈالر ہے ، پاکستان کا یہ المیہ ہے کہ 70 سالوں میں جتنی حکومتیں آئیں انہوں نے پانی کے مسئلے کے حل کے لئے ڈیم بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی، دو بڑی جماعتوں نے 30 سال میں تین تین بار حکومتیں کیں اور پانی کے مسئلے پر ووٹ مانگے مگر مسئلے کے حل کے لئے کوئی کوشش نہیں کی تاہم اب میں کراچی کے تاجر ، صنعتکار، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور مخیرحضرات سے اپیل کرتا ہوں کہ انہیں کراچی نے بہت کچھ دیا ہے اب وہ آگے بڑھیں

ان ڈیموں کی تعمیر کے لئے دل کھول کر عطیات دیں تاکہ جتنی جلد ممکن ہوسکے یہ ڈیم تعمیر ہوجائیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے پانی کے ذخائر نہ صرف زندگی کی مانند ہیں بلکہ ملک کی زراعت، معیشت، صنعت اور بقاء کے لئے انتہائی ضروری ہیں،حکومت ڈی سیلینیشن کی متحمل نہیں ہوسکتی لہٰذا BOT بہتر ہے ، پانی کی عدم دستیابی کسی بھی ملک کو خشک سالی اور قحط سالی میں مبتلا کرسکتی ہیں،

تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں کئی قومیں پانی عدم دستیابی کے باعث صفحہ ہستی سے مٹ گئیں،پاکستان کو پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے اگر یہ مسئلہ حل نہ کیا گیا تو پاکستان شدید مسائل کا شکار ہوسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ جب حکومتیں اہم قومی مسئلے پر توجہ نہیں دیتیں اور قومی مفادات کو نظر انداز کرتی ہیں تو انسٹیٹیوشن کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ آگے آئیں اور ملکی مفادکے لئے اپنا کردار ادا کریں،

انہوں نے کہا کہ میں کراچی کے میئر کی حیثیت سے چیف جسٹس آف پاکستان اور معزز عدالت کو یقین دلاتا ہوں کہ کراچی کے عوام اس فیصلے کی نہ صرف پرزور حمایت کرتے ہیں بلکہ ڈیم کی تعمیر کیلئے ہر طرح کے مالی تعاون کے لئے بھی تیار ہیں اور مجھے امید ہے کہ یہ ڈیم جلد تعمیر ہونگے اور ان ڈیموں کی تعمیر کے بعد کالا باغ ڈیم بھی تعمیر کیا جائے گاتاکہ ہمارا ملک ترقی، خوشحالی کی جانب گامزن ہو،

پاکستان کا مستقبل ہم سے اور ہمارا مستقبل پاکستان سے وابستہ ہے، اس لئے ہمیں ذاتی مفادات سے بالا تر ہوکر ملکی مفادات کے لئے کئے گئے فیصلوں کا ساتھ دینا چاہئے تاکہ ہمارا ملک ترقی کرے، ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی نے کہا کہ سندھ میں بیڈ گورننس کی مثالیں قائم ہوئی ہیں ، آرٹیکل9- کے تحت عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی کی کے لئے یہ تعین کرتا ہے کہ کوئی بھی ادارہ ملک کی بہتری کے لئے اقدام اٹھا سکتا ہے،

میں مایوس نہیں ہوں نہ میری جماعت مایوس ہے میئر کی حیثیت سے میری کارکردگی سب کے سامنے آئے گی، شہر کی بہتری کے لئے ہرممکن اقدام کریں گے، انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ کو اپنا سیوریج کا نظام درست کرنا ہوگا، جن علاقوں میں نل کے ذریعے پانی فراہم نہیں کیا جا رہا وہاں واٹر ٹینکرز کے ذریعے پانی دیا جائے، نظام کو چلانے کے لئے آج ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ فیصلے دے رہی ہے، 140-A پر عملدرآمد کے لئے بھی سپریم کورٹ نے ہدایات جاری کیں، وقت آگیا ہے کہ اب ہم بہتری کی طرف بڑھیں اور مستقبل کے حوالے سے درست اور جامع حکمت عملی اپنائیں تاکہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوسکیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…