اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

بلائیں آئی ایس آئی سربراہ کو۔۔ چیف جسٹس نے تہلکہ خیز حکم جاری کر دیا

datetime 4  جولائی  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے علاقے خیابان سہروردی میں قائم انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کی جانب سے سڑک پر لگائی گئیں روکاوٹیں ہٹانے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سیکرٹری دفاع کی جانب سے دائر کی گئی اپیل کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا آئی ایس آئی کو 4 ہفتوں میں سڑک کھولنے سے متعلق دیا گیا فیصلہ معطل کرتے ہوئے عدالت نے آئی ایس آئی سے سڑک کھولنے کی تاریخ طلب کرلی۔چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہدایات اور پلان لے کر آئیں کہ ماسٹر پلان کا روڈ کیوں بند کیا گیا؟ اور یہ بھی بتائیں کہ کب روڈ کھولیں گے؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پورے ملک میں تجاوزات ہٹانے کا حکم دے رکھا ہے آئی ایس آئی، اس سے مبرا نہیں، بلائیں آئی ایس آئی کے سربراہ کو کہ عدالتی حکم کے باوجود سڑک کیوں نہیں کھولی گئی؟۔انہوں نے کہا کہ یہ سڑک آپ کو کھولنی ہے کیونکہ اس کے بند ہونے سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ہم روڈ کھولیں گے مگر سیکیورٹی ایشوز ہیں ٗانہوں نے سڑکوں کے بند کرنے کی تصدیق کی اور ساتھ ہی کہا کہ مگر متبادل روڈ بھی بنا کر دیا ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ سی ڈی اے نے تحریری طور پر روڈ الاٹ کر دیا ہے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تجاوزات ختم کرنے کا حکم 3 ماہ قبل دیا تھا، یہ حکم نعیم بخاری کے ایک مقدمے میں دیا گیا تھا، یہ علاقہ کھولیں اور میریٹ، سیرینا اور دیگر کے سامنے سے تجاوزات ختم کروائے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ میں درخواست فیض آباد میں پراپرٹی کی تھی تاہم ہائی کورٹ نے

از خود لے کر حکم جاری کردیا تھا، ایڈیشنل اتارنی جنرل نے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ سیکیورٹی خدشات دور کرنے تک ہمیں مہلت دی جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہدایات لے کر بتائیں کب راستہ کھولیں گے؟ ہائی کورٹ کے پاس از خود لینے کا اختیار نہیں ان کا حکم معطل کرتے ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں زبردستی بیان حلفی تحریر کرکے دیں، بغیر ہدایات کے میں کیسے بیان حلفی دوں؟جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ عدالت تجاوزات ختم کرنے کا حکم پہلے دے چکی ہے، آپ ہدایات لیں اور عدالت کو بتائیں۔جس کے بعد مذکورہ کیس کی سماعت جمعہ تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…