بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

انتخابات سے پہلے کھلی بغاوت نے ن لیگ کو خالی کر دیا ایک ساتھ کتنے امیدواروں کا چوہدری نثار سے رابطہ؟ خبر ملتے ہی شریف برادران کی ہوائیاں اڑ گئیں

datetime 3  جولائی  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)عام انتخابات سے قبل ن لیگی امیدواروں کی جانب سے پارٹی چھوڑنے اور دوسری جماعتوں میں شامل ہونے کا سلسلہ جاری ہے اور کئی ایسے امیدوار بھی ہیں جنہوں ٹکٹ جاری ہونے کے بعد ٹکٹ واپس کر کے بطور آزاد امیدوار انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نواز شریف کے بیانئے سے اختلاف کی وجہ سے کئی دیرینہ پارٹی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

جن میں سب سے اہم اور بڑا نام چوہدری نثار علی خان کا ہے۔ پاکستان کے مؤقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پارٹی چھوڑنے والے 45امیدواروں نے چوہدری نثار سے رابطہ کرلیا ہے اور ان کی قیادت میں آگے بڑھنے کا عندیہ دیا ہے۔ لیگ ن کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے 45 قومی اسمبلی کے اُمیدواروں کے چودھری نثار سے رابطے ہوئے ، اور انہوں نے الیکشن جیتنے کے بعد چودھری نثار علی خان کا ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا۔چودھری نثار علی خان سے رابطے کرنے والوں میں پنڈی ڈویژن کے 12، فیصل آ باد ڈویژن سے 7 ،قصور ، اوکاڑہ ساہیوال اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے متعدد ن لیگی ٹکٹ ہولڈر شامل ہیں۔ رابطہ کرنے والے ٹکٹ ہولڈر ز میں اپنے حلقوں میں انتخابی جلسوں کے لیے نوازشریف اور شہباز شریف کی مدد لینے سے بھی انکار کر دیا ہے اور یہ ن لیگی ٹکٹ ہولڈرز اپنے جلسے اور جلوسوں میں کسی جگہ بھی نوازشریف کے بیانیہ کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ نہیں بنائیں گے جبکہ پنجاب کے علاوہ خیبرپختونخوا سے بھی تین اہم ٹکٹ ہولڈرز کا چوہدری نثار سے رابطے میں آچکے ہیں ۔ چوہدری نثار سے رابطوں میں آنیوالے ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈرز میں تین سابق وفاقی وزراء بھی شامل ہیں جنہوں نے ہم خیال دیگر ٹکٹ ہولڈرز کے ساتھ اجلاسوںمیں شریف برادران کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شریف برادران نے اپنے ساتھ ہماری سیاست

کا بھی بیڑہ غرق کر دیا ہے ۔ اس گروپ کی جانب سے جلسوں میں ختم نبوت ؐ کے معاملے پر بھی کھل کر بیانات سامنے آرہے ہیں جس میں کہا جا رہا ہے کہ ختم نبوت ﷺ کے معاملے میں کسی صورت میں بھی قانون میں ترمیم کرنے والوں کے ساتھ نہیں ۔اخبار ی رپورٹ میں اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر نوازشریف اور مریم نواز پاکستان واپس نہ آئے اور ن لیگی موجودہ صورتحال

اسی طرح رہی تو ن لیگ سے باغی ٹکٹ ہولڈرز کی تعداد بڑھ سکتی ہے ۔ دوسری جانب لندن میں بیٹھی ن لیگ کی اعلیٰ قیادت کو بھی صورتحال کا اندازہ ہو چکا ہے اورقائد ن لیگ نواز شریف نے قریبی ساتھیوں کو باغی رہنماؤں سے رابطہ کر کے انہیں ساتھ رکھنے کی ہدایت کی ہے جبکہ نواز ، شہباز اور مریم کی جانب سے ان رہنمائوں کیساتھ براہ راست رابطوں کی کوشش بھی کی گئی جس میں انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…