منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

10ملین ڈالر جو مشرف کے ’’ایک دوست ‘‘نے ان کے اکا ؤنٹس میں جمع کروائے ان کاحساب بھی ہوناچاہئے،ن لیگ نے نیا تنازعہ کھڑا کردیا، چونکا دینے والے انکشافات

datetime 13  جون‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی) مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ نوازشر یف کے کیس میں فیصلہ نہیں انصاف ہونا چاہئے‘ مشرف سے بھی پوچھا جانا چاہئے کہ ان کے بیرونی اکانٹس میں کروڑوں روپے کہاں سے آئے ہیں؟10ملین ڈالر جو مشرف کے ایک دوست نے ان کے اکا ؤنٹس میں جمع کروائے ان کاحساب بھی ہوناچاہئے ۔بدھ کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ عمران خان کوعدالتیں بلاتی رہیں

لیکن وہ کسی عدالت میں نہیں گئے اور اس وقت عدالت میں گئے جب انہوں نے خود فیصلہ کیا ۔نواز شریف ہر ہفتے تین چار روز احتساب عدالت میں 9بجے سے لیکر 11بجے تک بیٹھتے ہیں۔وہ کبھی بھی پانچ منٹ کے لئے پیش نہیں ہوئے اگران کو جلدی ہوتی ہے توجج ان کو پرچی لکھ کر دیتا ہے اور پھر وہ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ نوازشریف کے بیٹوں ، جہانگیر ترین کے بیٹے کے پیسوں کاحساب لیجئے یہ بات ٹھیک ہے لیکن جب پرویز مشرف کہتے ہیں کہ میرے ایک دوست نے 10ملین سے زائد ڈالر میرے اکاؤنٹ میں ڈال دیئے تو کیا کسی نے اس بارے میں کچھ پوچھا ہے ۔ مصدق ملک نے کہ نواز شریف 100پیشیاں بھگت چکے ہیں اور صرف نواز شریف کے کیس میں کہا جارہاہے کہ 6دن کافی نہیں 7دن آئیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ کو 9ماہ دیئے گئے لیکن دفاع کیلئے تین ہفتے دے رہے ہیں اس میں کوئی تواز ن نظر نہیں آتا ۔ سینٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ فیصلہ نہیں انصاف ہونا چاہئے اور مشرف سے بھی پوچھا جانا چاہئے کہ ان کے بیرونی اکانٹس میں کروڑوں روپے کہاں سے آئے ہیں؟ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ نوازشر یف کے کیس میں فیصلہ نہیں انصاف ہونا چاہئے‘ مشرف سے بھی پوچھا جانا چاہئے کہ ان کے بیرونی اکانٹس میں کروڑوں روپے کہاں سے آئے ہیں؟10ملین ڈالر جو مشرف کے ایک دوست نے ان کے اکا ؤنٹس میں جمع کروائے ان کاحساب بھی ہوناچاہئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…