پانی کی کمی اور بجلی کی قلت،پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان 56 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے معاہدے طے پا گئے

  بدھ‬‮ 13 جون‬‮ 2018  |  20:43

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان اور عالمی بنک کے درمیان توانائی اور پانی کے شعبوں کے منصوبوں میں مالی معاونت کے لئے 56 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے معاہدے طے پا گئے۔ سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن سیّد غضنفر عباس جیلانی اور عالمی بنک کے کنٹری ڈائریکٹر پچامتھو ایلانگوان نے معاہدوں پر دستخط کئے۔ معاہدوں کے تحت نیشنل ٹرانسمیشن ماڈرنائزیشن (فیز ون) منصوبہ کے لئے 425 ملین ڈالر اور سندھ بیراجوں کی بہتری کے منصوبہ کیلئے 140 ملین ڈالر کی اضافی فنانسنگ شامل ہے۔ نیشنل ٹرانسمیشن ماڈرنائزیشن کا مقصد ملک میں قومی ٹرانسمیشن سسٹم کے منتخب حصوں کی استعداد بڑھانا اور

این ٹی ڈی سی میں جدت لانا ہے۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 536.33 ملین ڈالر لگایا گیا ہے، عالمی بنک اس منصوبے کے لئے 425 ملین ڈالر فراہم کرے گا جبکہ 111.33 ملین ڈالر کی لاگت این ٹی ڈی سی برداشت کریگی ٗ سندھ بیراجوں میں بہتری کے منصوبہ کا مقصد گدو بیراج کی کارکردگی اور سیفٹی کو بہتر بنانا اور سندھ کے محکمہ آبپاشی کی استعداد کو بڑھانا ہے۔ اس منصوبہ کے لئے درکار اضافی فنانسنگ کا مجموعی تخمینہ 152.2 ملین ڈالر ہے جس میں سے 140 ملین ڈالر اے ایف کے تحت اور 12.2 ملین ڈالر حکومت سندھ فراہم کرے گی۔ اس موقع پر سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن نے عالمی بنک کا شکریہ ادا کیا اور عالمی بنک کی جانب سے پاکستان کی پائیدار اقتصادی ترقی کی کوششوں میں مسلسل تعاون کو سراہا۔  پاکستان اور عالمی بنک کے درمیان توانائی اور پانی کے شعبوں کے منصوبوں میں مالی معاونت کے لئے 56 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے معاہدے طے پا گئے۔ سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن سیّد غضنفر عباس جیلانی اور عالمی بنک کے کنٹری ڈائریکٹر پچامتھو ایلانگوان نے معاہدوں پر دستخط کئے۔ معاہدوں کے تحت نیشنل ٹرانسمیشن ماڈرنائزیشن (فیز ون) منصوبہ کے لئے 425 ملین ڈالر اور سندھ بیراجوں کی بہتری کے منصوبہ کیلئے 140 ملین ڈالر کی اضافی فنانسنگ شامل ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں