منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کا فیصلہ۔۔شیخ رشید کی اہلیت پر متعدد سوالات کھڑے ہو گئے بنچ کا حصہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اختلافی نوٹ میں کیا کچھ لکھ ڈالا

datetime 13  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے آج عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی نااہلی کے لیے مسلم لیگ (ن) کے رہنما شکیل اعوان کی دائر کردہ درخواست پر 85دن کے بعد محفوظ سناتے ہوئے شیخ رشید کو اہل قرار دیدیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما شکیل اعوان نے اپنی دائردرخواست میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد پر 2013 کے انتخابات کے دوران کاغذات نامزدگی

میں اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔لیگی رہنما کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی تھی اور 20 مارچ کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو 85 دن بعد سنایا گیا۔سپریم کورٹ نے آج مختصر فیصلہ سناتے ہوئے شیخ رشید کی نااہلی کے لیے لیگی رہنما شکیل اعوان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کو اہل قرار دے دیا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ‘شیخ رشید انتخابات 2018 لڑسکیں گے۔شیخ رشید کے خلاف درخواست پر فیصلہ 2 کے مقابلے میں ایک کے تناسب سے سنایا گیا اور فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اختلافی نوٹ بھی لکھا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ ‘معاملے پر فل کورٹ بنایا جائے۔ واضح رہے کہ درخواست گزار شکیل اعوان نے موقف اختیار کیا تھا کہ شیخ رشید نے کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کرتے ہوئے زرعی زمین اور آمدن ظاہر نہیں کی اس لیے وہ ممبر قومی اسمبلی کے لیے اہل نہیں ہیں، شیخ رشید نے گھر کی قیمت ایک کروڑ 2 لاکھ ظاہر کی جب کہ گھر کی بکنگ 4 کروڑ 80 لاکھ سے شروع کی گئی تھی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے 28 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ میں 7 سوالات اُٹھائے۔اپنے اختلافی نوٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ کیا کاغذات نامزدگی میں ہر

غلط بیانی کا نتیجہ نا اہلی ہے؟ کیا آرٹیکل 225 انتخابی تنازعات میں 184/3کا اطلاق ہو سکتا ہے؟ کیا 184/3 میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہل کیا جا سکتا ہے؟آرٹیکل 62 ون ایف کے میں کورٹ آف لاء کے ذکر میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے؟عدالتی کارروائی کے دوران غلط بیانی کو نااہلی کے لیے زیر غور لایا جا سکتا ہے؟کیا کسی شخص کی انتخابی عذرداری کو عوامی مفاد کا

معاملہ قرار دیا جا سکتا ہے؟معاملہ عوامی مفاد کا ہو تو کیا شواہد فراہمی سے متعلق قوانین کا اطلاق ہو گا؟ غلط بیانی پر نا اہلی کی مدت تاحیات ہو گی یا آئندہ الیکشن تک ؟ یاد رہے کہ آج صبح سپریم کورٹ نے شیخ رشید کی نااہلی سے متعلق مسلم لیگ (ن) کے رہنما شکیل اعوان کی درخواست خارج کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کو اہل قرار دے دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…