منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

’’امی کیلئے شال بُن رہی تھی کہ امریکی اہلکار نے آکر اس پر پیشاب کر دیا یہ جگہ پاک نہیں ، نماز کیسے پڑھتی ہوں؟‘‘ عافیہ صدیقی امریکی قید میں دن رات کس دردناک اذیت میں گزار رہی ہیں، جان کر آپ بھی آبدیدہ ہو جائینگے

datetime 13  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی قونصل جنرل نے عافیہ صدیقی سے جیل میں چند روز قبل ملاقات کی تھی جس کا مقصد عافیہ صدیقی کی امریکی قید میں زندگی کی تصدیق کرنا تھا۔ پاکستانی قونصل جنرل نے اس حوالے سے رپورٹ دفتر خارجہ کو ارسال کر دی ہے جس میں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ جیل کے ایک سابق سٹاف ممبر رامیریز(کوتاہ قد، بھدا اور بدصورت) کا عافیہ نے

کئی بار ذکر کیا کہ اس نے عافیہ کی بنائی ہوئی شال پر پیشاب کر دیا تھا، وہ اپنی والدہ کیلئے شال بن رہیں تھیں، عافیہ کو خدشہ ہے کہ مذکورہ شخص اگلے ماہ پھر یہ جیل جوائن کر کے انہیں اذیت پہنچائے گا۔ انہیں نے درخواست کی ہے کہ متعلقہ حکام کو بتایا جائے کہ اس شخص کو جیل میں تعنیات نہ کیا جائے ۔انہیں خوف ہے کہ وہ انہیں جنسی و جسمانی طور پرنقصان پہنچاسکتا ہے ۔ عافیہ نے اس شخص کو عادی جنسی درندہ اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کرنے والا قرار دیا۔ عافیہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کے وکیل اینی نیبلٹ نے اپنے دو اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر رواں برس فروری میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا ایف ایم سی کارس ویل میں ادارہ جاتی سطح پر جنسی تشدد کیا جاتا ہے ، یہاں صرف خدا ہی بچا سکتا ہے ۔قونصل جنرل کی رپورٹ کے مطابق جیل سٹاف نے کئی بار عافیہ کو پاگل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود اپنے آپ کو زخمی کرتی ہے ۔ عافیہ نے کہا ہے وہ میرے کمرے میں داخل ہو کر مجھے تشدد کا نشانہ بناتے اور پھر باہرجھوٹ بولتے کہ یہ سب میں نے خود کیا۔ عافیہ نے جیل عملے پر قران کی بے حرمتی کا الزام بھی عائد کیا ۔ ڈاکٹر عافیہ نے کہا وہ جیل میں اسلامی عقائد کے مطابق دن گزارنا چاہتی ہیں لیکن یہ جگہ عبادت کیلئے پاک نہیں، گندہ پانی دیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی اپنے مذہب پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…