منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

کاغذات نامزدگی جمع کرانیوالے ایک ساتھ 100سے زائد امیدوار نا اہل ہونے جا رہے ہیں کیونکہ۔۔پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے کون کونسے بڑےرہنما بھی شامل ہیں، دھماکہ خیز خبر نے ہلچل مچا دی

datetime 12  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد( آئی این پی، مانیٹرنگ ڈیسک ) اسٹیٹ بنک نے عام انتخابات 2018 کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے100 سے زائد امیدواروں کو ڈیفالٹر قرار دیدیا،پیپلزپارٹی کی حنا ربانی کھر اور پی ٹی آئی کے فیصل واڈا بھی ڈیفالٹر قرارپانے والوں میں شامل ہیں، این اے 249 سے پی ٹی آئی کے فیصل واڈا 37 ملین روپے کے ڈیفالٹر نکلے،اسٹیٹ بنک نے ڈیفالٹر امیدواروں کی فہرستیں الیکشن کمیشن کو بھجوا دیں،

ڈیفالٹر امیدواروں کی نااہلی کے امکانات ہیں۔ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بنک نے عام انتخابات 2018 کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے100 سے زائد امیدواروں کو ڈیفالٹر قرار دیدیا،پیپلزپارٹی کی حنا ربانی کھر اور پی ٹی آئی کے فیصل واڈا بھی ڈیفالٹر قرارپانے والوں میں شامل ہیں ،این اے 182 سے حنائربانی کھر بنک ڈیفالٹر ہیں، ذرائع کے مطابق حناء ربانی کھر کے شوہر 517 ملین روپے کے بنک ڈیفالٹر ہیں،جبکہ این اے 249 سے پی ٹی آئی کے فیصل واڈا 37 ملین روپے کے ڈیفالٹر نکلے،این اے 85 سے ہارون احسان،این اے 95 سے اسد حسن خان،امانت اللہ خان ڈیفالٹر قرار پائے گئے ،این اے 31 سے ہارون بلور،این اے 242 سے اسد اللہ بھٹو ڈیفالٹر قراردیئے گئے ،مخصوص نشست پر مس الماس خاکوانی 319 ملین روپے کی ڈیفالٹر نکلیں ،اسٹیٹ بنک نے ڈیفالٹر امیدواروں کی فہرستیں الیکشن کمیشن کو بھجوا دیںجبکہ الیکشن کمیشن نے ڈیفالٹر امیدواروں کی تفصیلات متعلقہ ریٹرننگ افسران کو بھجوا دی،ڈیفالٹر امیدواروں کی نااہلی کے امکانات ہیں ۔پی ٹی آئی کے فیصل واڈا 37 ملین روپے کےجبکہ پیپلزپارٹی کی حناء ربانی کھر کے شوہر 517 ملین روپے کے بنک ڈیفالٹرنکل آئیے ہیں جبکہ یہ فہرست 100سے زائد امیدواروں پر مشتمل ہے جو کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے الیکشن کمیشن کے حوالے کی گئی ہے۔واضح رہے کہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے بعد کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل ابھی باقی ہے اور اسی سلسلے میں تمام ادارے الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…