منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان پھٹ پڑے،نواز شریف کو ابھی تک سزا کیوں نہیں دی گئی؟ عدالتی نظام پر سوالات اٹھاتے ہوئے ایسی بات کہہ دی کہ چیف جسٹس ثاقب نثار بھی حیران رہ جائیں گے

datetime 11  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں عوام اور خواص کیلئے الگ الگ قانون ، نواز شریف کو سزا نہ ہونے پر کپتان پھٹ پڑے، عدالتی نظام میں سنجیدہ سوالات اٹھا دئیے۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نواز شریف کو ابھی تک سزا نہ ہونے پر پھٹ پڑے ہیں اور انہوں نے عدالتی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر

عمران خان نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ تحقیقات کے باوجو د نواز شریف کو سزا ہوناابھی باقی ہے جو کمزور نظام اور اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا ہے ۔عمران خان کا کہنا تھا کہ’’نون لیگی وزراء اور اہل صحافت ان فلیٹس کی حقیقت سے تین برس قبل اس وقت بھی آگاہ تھے جب “پانامہ لیکس” آئیں۔ اس کے باوجود سیاسی اجلاسوں اور انٹرویوز کا سلسلہ جاری رہا اور یہ سب چپ چاپ وزیر اعظم نواز شریف کو منی لانڈرنگ، جعل سازی اور فراڈ کرتے اور اپنے بچوں سے جھوٹ کہلواتے دیکھتے رہے۔سپریم کورٹ، نیب اور جے آئی ٹی کی تحقیقات پر قوم کا سرمایہ خرچ کیا گیا تاہم سزا ہونا ابھی بھی باقی ہے۔ یہ کمزور نظام اور اخلاقی دیوالیہ پن کی علامتیں ہیں۔دنیا کی کس جمہوریت میں منی لانڈرنگ، فراڈ/جعل سازی میں ملوث وزیراعظم پکڑے جانے پر انتہائی بے حیائی سے مظلومیت کا رونا روتے ہیں؟نیب کے پراسیکیوٹر کا بیان کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس پر نواز شریف کی 1993 سے ملکیت ثابت کرنے کیلئے کافی شواہد موجود ہیں، ظاہر کرتا ہے کہ کیسے کمزور کیلئے قانون کا معیار ایک ہے اور طاقتور کیلئے دوسرا۔ عوام اور خواص کیلئے الگ الگ پاکستان ہمارا بڑا المیہ ہے۔سپریم کورٹ ،نیب اور جے آئی ٹی کی تحقیقات پر قوم کا پیسہ خرچ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام اورخواص کے لئے الگ الگ قانون پاکستان کا المیہ ہے ۔ ملزمان کوسز ا باقی ہے یہ کمزور نظام اور اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ پاکستان میں کیسے کمزور کیلئے قانون کا معیار الگ اور طاقتور کیلئے الگ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کس جمہوریت میں فراڈ میں پکڑ ے جانے پر وزیر اعظم مظلومیت کا رونا روتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…