اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

ٹی وی سکرینوں تک محدود کاغذی لیڈر اب عوام کو نئے وعدوں کے ذریعے ورغلا رہے ہیں،پختون حقیقت جان چکے ہیں، امیر حیدر خان ہوتی کا دعویٰ

datetime 10  جون‬‮  2018 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ صوبے کے عوام باچاخانی چاہتے ہیں 5سال تک جھوٹ بولنے والوں کا یوم حساب قریب آچکاہے مخالفین اے این پی کی مقبولیت سے خوف زدہ ہیں، ٹی وی سکرینوں تک محدود کاغذی لیڈر اب عوام کو نئے وعدوں کے ذریعے ورغلا رہے ہیں لیکن پختون ان کی حقیقت جان چکے ہیں اقتدار میں آکر خالی خزانے کو دوبارہ بھریں گے بیرونی سرمایہ کاروں کو لائیں گے ، آئل ریفارمراوربجلی پیداوار کے منصوبے شروع کریں گے

وہ یونین کونسل باڑی چم میں افطار عشائیے کے موقع پر جلسہ سے خطاب کررہے تھے جس کی صدارت سابق ایم پی اے اورضلعی الیکشن کمیٹی کے چیئرمین حاجی احمد بہادر خان نے کی، ضلع ناظم اور حلقہ پی کے 51کے امیدوار حمایت اللہ مایار ،پی کے 52کے امیدوار علی خان ، پارٹی کے صوبائی نائب صدر جاوید یوسفزئی ، ضلعی جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان ،حاجی عطاء اللہ اورعمران ماندوری نے بھی خطاب کیا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ کاغذی لیڈروں کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے تبدیلی کے نام پر سادہ پختونوں کو دھوکہ دیاگیااوران کے 5 قیمتی سال ضائع کردیئے عوام کو خوب یادہے کہ انصاف ، میرٹ ،روزگار اورکرپشن کے خاتمے کے دعویداروں نے نوجوانوں کو روزگارکی بجائے چوہوں کے شکار پر لگاکر ان کی تضحیک کی تھی ،350ڈیموں کے وعدے جھوٹے ثابت ہوئے، انہوں نے کہاکہ پانچ سال تک صوبے میں کرپشن کے خاتمے کے دعویداروں نے کوئی قدم نہیں اٹھایا البتہ ایک دوسرے کی کرپشن کی کہانیاں سامنے ضرور لائے، انہوں نے کہاکہ تبدیلی والے میٹرو بس منصوبے پر صوبوں کے عوام کو اربوں روپے کا مقروض چھوڑکرچلے گئے ان کاکہناتھاکہ اب نئے وعدے وعید اور دعوؤں سے پختونوں کو ورغلا رہے ہیں لیکن پختون قوم جاگ گئی ہے اور وہ ٹی وی سکرینوں کے کاغذی لیڈروں کی حقیقت جان چکے ہیں

اور25جولائی کو اپنے ووٹ کی طاقت سے نام نہاد تبدیلی والوں سے بدلہ لیں گے، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی کے دور حکومت میں ہرطرف ترقی کا دوردورہ تھا ان کی دور حکومت کا موازانہ قیام پاکستان سے لے کر پی ٹی آئی کی حکومت تک کیا جائے تو کسی بھی دور میں اتنی ترقی نہیں ہوتی جس قدر ہمارے دور میں منصوبے مکمل کئے گئے انہوں نے کہاکہ ہم نے صوبے کو نام دیا ،این ایف سی ایوارڈ دیا ،اٹھاوریں ترمیم کے ذریعے مرکز سے اختیارات صوبے کو منتقل کردیئے

جبکہ قیام پاکستان سے لے کر 2008تک صوبے میں صر ف 9یونیورسٹیاں تھیں ہم نے اپنے دورحکومت میں دس یونیورسٹیاں قائم کرکے صوبے بھر میں علم کی روشنیاں بکھیر دیں،انہوں نے کہاکہ اقتدارمیں آکرنہ صرف خالی خزانہ بھریں گے بلکہ ترقی کا رکا ہوا پہیہ دوبارہ چلائیں گے، بیرونی سرمایہ کاروں کو لاکر کارخانے لگائیں گے، جنوبی اضلاع میں آئل ریفارمری ،گیس سے بجلی منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ہائیڈل منصوبے شروع کریں گے، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ پختون باچاخانی چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…