جمعہ‬‮ ، 20 مارچ‬‮ 2026 

نقیب اللہ قتل کیس میں ڈرامائی پیشرفت ،را ؤانوار کیخلاف اہم گواہ منحرف ،پولیس نے میرے ساتھ یہ کام زبردستی کیا،گواہ شہزادہ جہانگیر کا سنسنی خیز انکشاف

datetime 14  مئی‬‮  2018 |

کراچی(سی پی پی ) نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤانوارکے خلاف اہم گواہ منحرف ہوگیا۔کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ را انوار، ڈی ایس پی قمر احمد شیخ، اللہ یار، اقبال اور ارشد سمیت 11 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس کی جان سے راؤانوارکو وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا اور بغیر ہتھکڑی کے بھی پیش کیا گیا۔ دوران سماعت نقیب اللہ قتل کیس کا اہم گواہ اپنے بیان سے منحرف ہوگیا۔

پولیس نے گواہ شہزادہ جہانگیر کو واقعہ کا عینی شاہد ظاہر کیا تھا۔شہزادہ جہانگیر نے عدالت میں اپنے بیان حلفی میں کہا کہ میرا نقیب محسود قتل واقعے سے کوئی تعلق نہیں، پولیس نے مجھ سے زبردستی راؤانوارکے خلاف بیان لیا، پولیس نے مجھ پر تشدد کر کے اپنی مرضی کا بیان ریکارڈ کروایا، میری جان کو خطرہ ہے، عدالت سیکیورٹی کا بندوبست کرے۔آج سماعت میں را نوار سمیت 12 ملزمان کو مقدمے کی نقول فراہم کردی گئیں۔ 11 مفرور ملزمان کی عدم گرفتاری پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کے ایک بار پھر ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے۔ مفرور ملزمان میں سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت، شعیب شوٹر اور دیگر شامل ہیں۔پولیس نے راؤ انوار اور دیگر ملزمان کے خلاف تیسرے مقدمے میں چالان جمع کرادیا جسے عدالت نے منظور کرلیا۔ پولیس نے چالان میں سابق ایس ایس پی راؤانوارکو نقیب اللہ کیس میں مرکزی ملزم قرار دے دیا۔ چالان کے مطابق نقیب اللہ، صابر، اسحاق اور نظر جان کی ڈی این اے رپورٹس موصول ہوگئیں، نقیب اللہ سمیت چاروں مقتولین کو ایک کمرہ میں رکھ کر مارا گیا۔راؤ انوار نے جیل میں بی کلاس کی درخواست دائر کردی۔ ملزم کے وکیل نے کہا کہ راؤانوارکو سینٹرل جیل میں سی کلاس میں رکھا گیا ہے اور اس سے عادی ملزمان جیسا سلوک کیا جا رہا ہے،

راؤانوارکسی جرم میں ملوث نہیں اور باقاعدہ ٹیکس ادا کرتا ہے، لہذا بی کلاس کی سہولت دی جائے۔جرگہ عمائدین نے راؤانوارکو وی آئی پی پروٹوکول پر اعتراض اٹھادیا۔ جرگہ عمائدین نے مشترکہ مقف میں کہا کہ راؤانوارملزم ہے، جس طرح دیگر ملزمان کو کورٹ لایا جاتا ہے اسی طرح اسے بھی لایا جائے۔سابق ایس ایس پی راؤانوارکو سب جیل منتقل کرنے کا فیصلہ بھی چیلنج کردیا گیا۔ نقیب کے لواحقین کے وکیل صلاح الدین نے کہا کہ ایک

فون کال پر ملیر کینٹ کی بیرک کو سب جیل قرار دینا فراڈ لگتا ہے، سب جیل کا تحریری آرڈر ہوناچاہیئے تھا اور پہلے عدالت سے اجازت لینی چاہیئے تھی۔عدالت نے کیس کی سماعت 19 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے راؤانوارکی درخواستِ ضمانت اور بی کلاس پر مزید دلائل طلب کرلیے۔ عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔



کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…