جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

لاہور میں موت سر عام بکنے لگی ،منشیات خریدنے کے معاملے پر نشئیوں کے دو گروپوں میں خونی تصادم ،متعدد لہو لہان ہوگئے ،خوف و ہراس پھیل گیا

datetime 4  مئی‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) گڑھی شاہو چوک میں منشیات کی پہلے خریداری کرنے کے معاملے پر نشئیوں کے دو گروپوں میں خونی تصادم ہو گیا ، ایک دوسرے پر بلیڈ اور کٹر سے حملہ کر دیا جس سے کئی لہو لہان ہو گئے ، تصاد م اور للکارے مارنے کی وجہ سے یونیورسٹی جانے کیلئے ٹرانسپورٹ کے انتظار میں کھڑی طالبات اور راہگیروں میں خوف و ہراس پھیل گیا ،

تاجروں نے دکانوں کے باہر نشئیوں کے مستقل ڈیرے ڈالنے کیخلاف شدید احتجاج کیا ۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز گڑھی شاہوچوک میں معمول کے مطابق نشئیوں کی ایک بڑی تعداد جمع تھی ۔منشیات فروشوں کے آنے پر پہلے خریدنے کے معاملے پر نشئیوں کے دو گروپ آمنے سامنے آ گئے اورتلخ کلامی کے بعد نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی ۔ اس دوران نشئیوں نے ہاتھ میں موجود بلیڈ اور کٹر سے ایک دوسرے پر حملہ کر دیا اور ایک دوسرے کو لہو لہا ن کردیا ۔اس موقع پر نشئیوں کے بعض ساتھیوں نے ہی بیچ بچاؤ کرایا ۔نشئیوں کے درمیان تصادم اور للکارے مارنے کی وجہ سے گڑھی شاہو چوک میں یونیورسٹی جانے کیلئے ٹرانسپورٹ کے انتظار میں کھڑی طالبات اور راہگیروں میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔تاجروں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ گڑھی شاہو چوک میں نشئیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے کاروبار کرنا محال ہو گیا ۔ نشئیوں کی آئے روز کی وارداتوں اور جھگڑوں کی وجہ سے خریدارخصوصاً خواتین شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں ۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے متعلقہ پولیس اسٹیشن کو متعدد بار درخواستیں دے چکے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو تی۔  گڑھی شاہو چوک میں منشیات کی پہلے خریداری کرنے کے معاملے پر نشئیوں کے دو گروپوں میں خونی تصادم ہو گیا ، ایک دوسرے پر بلیڈ اور کٹر سے حملہ کر دیا جس سے کئی لہو لہان ہو گئے ، تصاد م اور للکارے مارنے کی وجہ سے یونیورسٹی جانے کیلئے ٹرانسپورٹ کے انتظار میں کھڑی طالبات اور راہگیروں میں خوف و ہراس پھیل گیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…