جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کا وہ شہر جہاں دنیا میں سب سے زیادہ گرمی کل پڑی ،جانتے ہیں درجہ حرارت کہاں تک پہنچ گیا؟مغربی ماہرین بھی پریشان

datetime 3  مئی‬‮  2018 |

نوابشاہ (سی پی پی )سندھ کے شہر نواب شاہ میں سخت ترین گرمی نے مغربی ماہرین کو بھی پریشان کردیا۔ گزشتہ روز نواب شاہ میں 50.2 درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا، جو اس وقت تک دنیا کی تاریخ کا گرم ترین درجہ حرارت ہے، اس سے قبل زمین نے پہلے ایسی گرم آب و ہوا نہیں سہی تھی۔ جبکہ میٹ آفس کی جانب سے کراچی والوں کو بھی سخت گرم موسم سے نمٹنے کی ہدایت کردی۔دنیا کے گرم ترین شہر کا اعزاز پانے کے بعد پاکستان میں ماحولیات

کی خوفناک صورتحال پر سنجیدہ سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔نواب شاہ کی گرمی کا انداہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فرانسیسی ماہر موسمیات بھی نواب شاہ پر ٹوئٹ کیے بنا نہ رہ سکے۔اس سے پہلے اتنا گرم اپریل نہیں دیکھا، تاہم سوال یہ پیدا ہوتا کہ کیا عالمی حدت کا سب سے زیادہ اثر پاکستان پر ہو رہا ہے؟۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے جاری خبروں کے مطابق ایک کروڑ دس لاکھ آبادی کا یہ شہران دنوں تاریخ کے گرم ترین دنوں سے گزر رہا ہے، ہیٹ اسٹروک سے درجنوں افراد بے ہوش ہوچکے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ لگا تار دوسرا مہینہ ہے جب نواب شاہ میں شدت کی گرمی ریکارڈ کی گئی۔ سال 2017 میں جاری کردہ فہرست میں ایران اور اسپین کے شہروں کو گرم ترین مقام قرار دیا گیا تھا، جب کہ پاکستانی شہر تربت عام طور پر گرمی کے حوالے سے جانا جاتا ہے، جہاں اس سے پہلے گرم ترین درجہ حرارت ریکارڈ کیے گئے ہیں۔دوسری جانب محکمہ موسمیات نے کراچی والوں کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاجواز گھر سے باہر نکلنے میں احتیاط برتیں اور پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ ڈائریکٹر میٹ آفس عبدالرشید کے مطابق کراچی کا درجہ حرارت پھر 42 ڈگری تک جائیگا۔میٹ آفس کے مطابق کراچی میں دو دن شدید گرمی رہے گی، گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگا۔ جہاں پاکستان کے ایک حصے سخت ترین موسم جھیل رہے ہیں، وہیں بالائی پنجاب ، خیبر پختونخوا اور کشمیر میں بادلوں کی رم جھم نے موسم حسین اور گرمی کی شدت کو کم کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…