جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف کا ایک اور یو ٹرن، صوبائی بجٹ پیش کرنے سے متعلق حیران کن فیصلہ کرلیا

datetime 1  مئی‬‮  2018 |

پشاور(سی پی پی) خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر صوبائی بجٹ پیش نہ کیے جانے کا امکان ہے۔ایک حکومتی عہدیدار نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے بجٹ پیش کرنے کا ارادہ ترک کردیا ہے اور محکمہ خزانہ کو بجٹ سے متعلق زبانی مطلع کردیا ہے تاہم کوئی دستاویزات سامنے نہیں آئے۔ذرائع نے بتایا کہ بجٹ سے متعلق حتمی فیصلہ آئندہ ہفتے آنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب اس حوالے سے بتایا گیا کہ اسمبلی میں بجٹ سے متعلق اجلاس 14 مئی کو طلب کیا گیا ہے لیکن حکومت کو ایوان میں معمولی اکثریت حاصل ہے اور اسی لیے بجٹ پیش کرنے پر خوف محسوس ہو رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اگر اس مرتبہ اسمبلی سے بجٹ پاس نہیں ہوا تو صوبائی حکومت کا وجود باقی نہیں رہے گا۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلی نے اگلے مالی سال سے متعلق پیش کردہ وفاقی بجٹ کی شدید تنقید کی تھی تاہم اب اگر پی ٹی آئی صوبائی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتی ہے تو یہ بڑی تضحیک کی بات ہوگی۔دوسری جانب وزیراعلی کے ترجمان ایم بی اے شوکت یوسفزئی نے بتایا کہ حکومت بجٹ کے مخالف نہیں تھی لیکن یہ فیصلہ ہوا تھا کہ بجٹ اپوزیشن پارٹی کی موجودگی میں پیش کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان کی پارٹی موجودہ حکومت کی جانب سے اگلے مالی سال کے لیے ڈیولپمنٹ پروگرامز پیش کرنے کے مخالف رہی کیونکہ یہ صرف انتطامی بجٹ ہونا چاہیے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں سالانہ ڈیولپمنٹ پروگرامز اسکیم اپنے لیے چاہتی تھیں جو کہ یقیناًبلیک میلنگ تھی۔واضح رہے کہ 12 اپریل کو پی ٹی آئی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ حکومت بجٹ پیش نہیں کرے گی۔عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ ان کی پارٹی خیبر پختونخوا میں اگلے سال کا بجٹ پیش نہیں کرے گی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت اور پنجاب سے مطالبہ کیا تھا۔

کہ وہ اگلے سال کا پورا بجٹ پیش نہیں کریں جبکہ حکومت کے پاس صرف 45 دن باقی ہے۔مذکورہ اعلان کے ایک ہفتے بعد ہی صوبائی حکومت نے ارادہ ظاہر کیا کہ اپوزیشن جماعتوں کی خواہش پر وہ 14 مئی کو بجٹ پیش کرے گی۔آئین کے مطابق عبوری حکومت سیکشن 126 کے تحت 4 ماہ کے اخراجات منظور کرنے کی مجاز رکھتی ہے۔واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی اسمبلی کی کل 124 نشستیں ہیں ۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی جانب سے سینیٹ انتخابات میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ کے الزام میں 20 رکن صوبائی اسمبلی کی نشاندہی کے بعد پی ٹی آئی کو 45 نشستیں حاصل ہیں۔خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا سیاسی اتحاد ہے تاہم امکان ہے کہ جماعت اسلامی کے 8 قانون ساز اگلے چند دنوں میں حکومت کے ساتھ سیاسی اتحاد ختم کرکے مذہبی جماعتوں کے سیاسی اتحاد متحدہ مجلس عمل میں شمولیت اختیار کرلیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…