جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

غیر ملکی مسافر کو ’’ویلکم ٹو پاکستان‘‘ اور پاکستانیوں کو ’’ویلکم ٹو ہوم‘‘ کہا جائے،وزیر داخلہ نے امیگریشن حکام کو اہم ہدایات جاری کر دیں

datetime 30  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال نے امیگریشن حکام کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان آنے والوں کا خوش اخلاقی سے استقبال کیا جائے ٗغیر ملکی مسافر کو ’’ویلکم ٹو پاکستان‘‘ اور پاکستانیوں کو ’’ویلکم ٹو ہوم‘‘ کہا جائے، نئے ایئر پورٹ کا منصوبہ خراب حالت میں ورثہ میں ملا، نواز شریف نے اسے حقیقت کا روپ دیا۔ پیر کو نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کے دورہ کے دوران وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال نے نو تعمیر شدہ ایئرپورٹ کے مختلف حصوں بالخصوص امیگریشن کاؤنٹرز اور لاؤنجز کا معائنہ کیا

اور وہاں تعینات سٹاف سے بھی ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے اس موقع پر امیگریشن حکام کو ہدایت کی کہ پاکستان آنے والوں کا خوش اخلاقی سے استقبال کیا جائے، ہر غیر ملکی مہمان کو ’’ویلکم ٹو پاکستان‘‘ اور پاکستانی کو ’’ویلکم ٹو ہوم‘‘ کہا جائے تاکہ پاکستان آنے پر وہ خوشی اور عزت و احترام محسوس کریں اور پاکستان کا مثبت امیج اجاگر ہو۔ انہوں نے کہا کہ مہمانوں کیلئے کاؤنٹرز پر خوش اخلاق اور مستعد عملہ تعینات کیا جائے۔ انہوں نے امیگریشن عملہ سے ملاقات کی اور ان پر زور دیا کہ اپنے رویے اور اخلاق سے ملک کی عزت و وقار میں اضافہ کریں اور خود کو پاکستان کا سفیر سمجھتے ہوئے اپنے فرائض منصبی ادا کریں۔ وزیر داخلہ نے مسافروں کو نئے ایئر پورٹ سے پروازوں کے شیڈول سے آگاہ کرنے کیلئے اشتہار دینے اور ایئر پورٹ شٹل سروس چلانے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے فرسٹ اور بزنس کلاس سمیت تمام مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات، لاؤنجز اور کاونٹرز کا بھی معائنہ کیا۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دارالحکومت میں بین الاقوامی معیار کے ایئر پورٹ کے افتتاح پر وہ قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، یہ منصوبہ ہمیں انتہائی خراب حالت میں ورثے میں ملا تھا، نواز شریف کی ہدایت پر اسے 5 سالوں میں حقیقت کا روپ دیا گیا، یہ منصوبہ اس ترقی و خوشحالی کی علامت ہے جس پر ہم نے ملک کو گامزن کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…