اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

کامن ویلتھ گیمز۔۔بھارتی ایتھلیٹس رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، بڑا سکینڈل منظر عام پرکمرے اور سامان سے کیا برآمد ہوگیا؟ افریقی کھلاڑیوں کا بھی ایسا کارنامہ کے آسٹریلوی گورے سر پیٹ کر رہ گئے

datetime 13  اپریل‬‮  2018 |

گولڈ کوسٹ(این این آئی) کامن ویلتھ فیڈریشن نے دو بھارتی ایتھلیٹس کو قانون کی خلاف ورزی پر مقابلوں سے نکال دیا۔ٹرپل جمپنگ میں بھارت کی نمائندگی کرنے والے راکیش بابو اور دوڑ کے مقابلوں میں حصہ لینے والے عرفان کولوتھم تھوڈی کے کمروں سے سرنج برآمد ہونے پر انہیں مقابلوں سے نکالا گیا۔کامن ویلتھ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ دونوں ایتھلیٹس کو نو نیڈل پالیسی کی خلاف ورزی پر

گیمز ولیج سے نکال دیا گیا جبکہ ان کے ایکریڈیٹیشن کارڈز بھی معطل کردیے گئے ہیں۔فیڈریشن حکام کا کہنا ہے کہ دونوں بھارتی ایتھلیٹس کسی مقابلے میں حصہ لینے کے اہل نہیں رہے اور انہیں دستیاب فلائٹ سے واپس بھیج دیا جائے گا۔یاد رہے کہ راکیش بابو کو 14 مارچ کو ہونے والے ٹرپل جمپنگ مقابلے کے فائنل میں حصہ لینا تھا جبکہ عرفان تھوڈی نے اتوار کو ہونے والی 20 کلو میٹر ریس میں 13ویں پوزیشن حاصل کی تھی۔ کامن ویلتھ فیڈریشن کے صدر لیوس مارٹن کے مطابق ہوٹل کے عملے نے راکیش بابو اور عرفان تھوڈی کے کمرے کی صفائی کے دوران انجکشن برآمد کیا جبکہ آسٹریلین اسپورٹس اینٹی ڈوپنگ اتھارٹی کے حکام نے بھی راکیش بابو کے بیگ کی تلاشی کے دوران سرنج برآمد کی۔فیڈریشن کے صدر کا کہنا تھا کہ فیڈریشن کورٹ نے دونوں ایتھلیٹس کو قصوروار قرار دیا جبکہ دونوں ایتھلیٹس کی جانب سے سرنج رکھنے یا اس کی معلومات سے متعلق انکار میں کوئی ٹھوس وزن نہیں ہے۔کامن ویلتھ گیمز کے لئے بھارتی چیف وکرم سنگھ سسودیا، جنرل منیجر نمدیو شرگونکر اور ایتھلیٹس ٹیم منیجر روندر چوہدری کو بھی نو نیڈیل پالیسی کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔دوسری جانب کیمرون کے 8 کھلاڑیوں کے لاپتہ ہونے کے بعد کامن ویلتھ گیمز سے مزید 5 افریقی ایتھلیٹ بھی لاپتہ ہو گئے ہیں۔آسٹریلین ریاست کوئنز لینڈ میں جاری کولڈ کوسٹ کامن ویلتھ گیمز کے

منتظمین نے تصدیق کی کہ روانڈا اور یوگنڈا سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹس لاپتہ ہو گئے ہیں جبکہ سیرا لیون سے تعلق رکھنے والے 2 اسکواش کے کھلاڑی بھی لاپتہ ہونے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔کامن ویلتھ گیمز فیڈریشن کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ گریوم برگ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم معاملے کو بہت احتیاط سے دیکھ رہے ہیں، ہمارے پاس ان تمام لوگوں کے لیے سروس ہے

جن کے پاس اس ملک میں رہنے کیلئے قانونی ویزا موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک یہ مسئلہ صحیح ثابت نہیں ہوتا اس وقت تک ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ایتھلیٹ ویزا ختم ہونے کے بعد بھی رکتے ہیں یا نہیں اور آیا وہ پناہ گزین کی درخواست تو نہیں دیتے، ہمیں صورتحال کا بغور جائزہ لینا ہو گا۔انہوںنے کہاکہ ہماری توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ایتھلیٹس کی کھوج لگانے میں ٹیموں کی مدد کریں۔

یاد رہے کہ 2000 کے سڈنی اولمپکس میں شریک 100 سے زائد غیر ملکی ایتھلیٹ اپنا ویزا ختم ہونے کے باوجود آسٹریلیا میں رک گئے تھے۔ کامن ویلتھ گیمز میں آنے والے ایتھلیٹس کے ویزوں کی مدت 15 مئی کو ختم ہو جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…