جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

ن لیگ نے 1997ء میں عدلیہ کے ساتھ جو کچھ کیا ، اس کے پارٹ 2 کا سکرپٹ تیار کیا جا رہا ہے، ملک کی سپریم عدلیہ کو بدنام کرنے کیلئے ان پر دھوئیں کے بم پھینکنے کیلئے اداکاروں کو بریفنگ دی جارہی ہے،حیرت انگیز انکشافات

datetime 29  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف کالم نگار منیر احمد بلوچ نے اپنے کالم میں لکھا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سیا ست کو قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ جس طرح مچھلی پانی کے بغیر نہیں رہ سکتی اسی طرح وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں‘ کچھ حساس اداروں کو مکمل طور پر اپنے تابع کرنا نہیں بھولتے‘ اور یہی ان کی سیاست میں اب تک کی تمام کامیابیوں کا راز رہا ہے۔ لیکن اس دفعہ نہ جانے کیا ہوا کہ لاکھ کوششوں کے باوجود ملک کی سپریم عدلیہ ان کے کنٹرول سے باہر ہو گئی‘

جس پر گھات لگانے کی بھرپور کوششیں ہو رہی ہیں۔ چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف 1997ء میں جو کچھ کیا گیا‘ سنا ہے کہ اس کے پارٹ2کا سکرپٹ تیار کیا جا رہا ہے‘ جو کسی بھی وقت پردہ سکرین پر رونما ہو سکتا ہے۔ اس کھیل کے ابتدائی ٹریلر کی چھوٹی سی جھلک 2018ء کے صلح نامہ کی صورت میں سامنے آ چکی ہے۔ شنید ہے کہ کچھ لوگوں کی محنت سے ان کے کھلاڑیوں کی تعداد تین سے بڑھ کر پانچ تک پہنچنے والی ہے۔ دوسری جانب ملک کو جس بد ترین معاشی حالت کا شکار بنا دیا گیا ہے‘ اس کی مکمل ذمہ داری شاہد خاقان عباسی اور ان کے قائدپر عائد ہوتی ہے کیونکہ میری اطلاع کے مطابق پاکستان کی کرنسی کو زمین بوس کرنے کا حکم جاتی امرا سے ہی دیا گیا ہے‘ جس کی وجہ سے پاکستان مزید 135 ارب ڈالر کا مقروض ہو گیا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے کسی کو ذرہ بھر بھی خیال نہیں آیا کہ اس سے پاکستانی معیشت زمین بوس ہو جائے گی۔ ان کو ذرا بھی خوف خدا نہیں آیا کہ میرے وطن کی کرنسی دنیا بھر کے ممالک سے لین دین میں آدھی رہ جائے گی۔ کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ اسی خاندان کے ایک فرد کے بقول حکمران خاندان کا پاکستان سے انتقام شروع ہو چکا ہے؟ میں نے اپنی زندگی کا واضح اصول مرتب کیا ہوا ہے کہ اگر آپ کے پاس ثبوت نہ ہو تو اس کو کبھی بھی اپنی تحریر کا حصہ نہ بنایا جائے۔ میرے پاس ایک انتہائی اہم ترین ادارے کے سربراہ کیلئے

پوسٹنگ کے عوض کسی بہت ہی اہم ترین شخصیت کے لیٹر پیڈ پر جاری ایک ارب دس کروڑ روپے وصول کرنے کی تحریر موجود ہے‘ جس میں ان کے کوآرڈینیٹر سمیت دو افراد کے دستخط ہیں‘ جن میں سے ایک صاحب کا اس رسید میں بطور ضامن ذکر ہے۔ ابھی میں اس رسید کی اپنے طور پر تحقیق کر رہا ہوں۔ جیسے ہی میں نے اپنی تحقیق مکمل کر لی تو ان تمام کرداروں کے نام ٹی وی پر عوام کے سامنے لاؤں گا۔انہوں نے مزید لکھا کہ ملک کی سپریم عدلیہ کو بدنام کرنے کیلئے ان پر دھوئیں کے بم پھینکنے

کیلئے اداکاروں کی بریفنگ جاری ہے۔ آپ کو یاد تو ہو گا کہ کوئی دو برس پیشتر پشاور ہائیکورٹ کے ایک جج کی گاڑی کو بنوں چھاؤنی کے سکیورٹی پوائنٹ پر کھڑے فوجیوں نے روک کر جو گستاخی کی تھی‘ ان جج صاحب کی طبیعت پر اس قدر گراں گزری کہ انہوں نے اگلے روز عدالت میں ہنگامہ کیا تو ساتھ ہی لبرلز اور نواز لیگ کے سوشل میڈیا نے فوج کے لتے لینے شروع کر دیئے تھے۔ ان سے معذرت کی گئی‘ اس کے باوجود ان کا غصہ ٹھنڈا نہ ہو سکا‘ اور وہ ملک کی اس اہم ترین شخصیت کے قریب ترین ہو گئے‘

جس کے دل میں فوج کے خلاف نفرت کے سوا اور کچھ نہیں۔ ان جج صاحب نے اپنے اور اپنے ”دوست‘‘ کے سمجھے گئے دشمن سے ملٹری چیک پوسٹ پر روکے جانے کی ذلت کا بدلہ لینے کا فیصلہ کر لیا… اور جیسے ہی وہ جج سپریم کورٹ پہنچنے میں کامیاب ہوئے تو انہوں نے وفاداری کا اظہار کر دیا۔ اب چند روز ہوئے میاں نواز کے وہ ”دوست‘‘ اپنے عہدہ جلیلہ سے ریٹائر ہو چکے ہیں‘ لیکن انہوں نے جاتے جاتے بھی بنوں چھاؤنی کے گیٹ پر سکیورٹی پوسٹ پر اپنی گاڑی روکے جانے پر میاں نواز شریف کے ایجنڈے کی تقویت کیلئے اس میں نفرت کے نئے رنگ بھرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…