جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

سرد جنگ میں مغرب کی درخواست پر وہابیت پھیلانے کے لیے فنڈز دئیے ،ماضی کی سعودی حکومتیں اس کوشش کے حصول کیلئے راستہ بھٹک گئیں، سعودی ولی عہد کا انٹرویو میں اعتراف

datetime 29  مارچ‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سرد جنگ کے دوران مغربی اتحادیوں کی درخواست پر سعودی عرب نے دنیا کی مساجد میں سرمایہ لگایا، وہابیت پھیلائی تاکہ سوویت یونین کی مسلمان ملکوں تک رسائی روکی جاسکے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرارڈ کوشنر سے ان کی دوستی ہے لیکن وہ پاگل نہیں کہ ان سے خفیہ معلومات کا تبادلہ کریں۔انٹرویو میں سعودی ولی عہد نے کہا کہ سعودی عرب کے مغربی اتحادیوں نےسرد جنگ کے دور میں درخواست کی تھی کہ مختلف ملکوں میں مساجد اور مدارس کی تعمیر میں سرمایہ لگایا جائے تاکہ سوویت یونین کی جانب سے مسلم ممالک تک رسائی کو روکا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی سعودی حکومتیں اس کوشش کے حصول کیلئے راستہ بھٹک گئیں، ہمیں واپس راستے پر آنا ہے۔سعودی ولی عہد نے کہا کہ وہابی سوچ پھیلانے کیلئے آج زیادہ تر فنڈنگ سعودی حکومت کی بجائے مختلف سعودی ادارے کررہے ہیں۔ملک میں جاری اصلاحاتی مہم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے قدامت پرست مذہبی رہنماں کو بڑی مشکل سے اس بات پر قائل کیا ہے کہ ایسی سختیاں اسلامی نظریے کا حصہ نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ اسلام سادہ اور دانشمندی پر مبنی مذہب ہے لیکن کچھ لوگ اسے ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…