ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بے نظیر نے اپنی زندگی میں بیس برس قبل صرف ایک وصیت کی ، اس وصیت میں انہوں نے کیا لکھوایا؟ معروف صحافی وصیت کا متن سامنے لے آئے

datetime 29  مارچ‬‮  2018 |
Former Pakistani Prime Minister Benazir Bhutto adjusts her scarf at a campaign rally in Pabbi, 120 kilometers (75 miles) west of Islamabad, Pakistan, Wednesday Dec. 12, 2007. Bhutto repeated accusations that Musharraf will try to cheat by using police, judiciary officials and administration functionaries. (AP Photo/Greg Baker)

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف کالم نگار منیر احمد بلوچ نے اپنے کالم میں لکھا کہ اب وہ نا قابل تردید ثبوت سامنے لانا بھی ضروری ہو گیا ہے‘ جو ثابت کرے گا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں سوائے 20 برس قبل ایک وصیت کرنے کے‘ کوئی وصیت نہیں کی تھی۔ مذکورہ وصیت بھی اس وقت کی گئی تھی جب بلاول سمیت بختاور اور آصفہ ابھی چھوٹے تھے اور اس وصیت کے تحت ان کے بالغ ہونے تک محترمہ فریال تالپور اور ان کے شوہر منور تالپور کو اپنی جائیداد کا گارڈین مقرر کیا تھا۔

مذکورہ وصیت کی فوٹو کاپی میں ان کا لندن کا ایڈریس دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کوئی وصیت نہیں۔ میں پورے وثوق سے لکھ رہا ہوں کہ محترمہ نے دبئی سے پاکستان آنے سے پہلے کسی قسم کی بھی سیاسی یا مالی وصیت نہیں کی تھی اور اس کی گواہی کوئی اور نہیں بلکہ ایک ایسا شخص دے گا‘ جو محترمہ بے نظیر بھٹو فیملی کا سب سے اہم ترین فرد ہو گا (شاہ نواز یا مرتضیٰ بھٹو کی فیملی کا کوئی ممبر نہیں) میں نے جن خدشات کا ابتدا میں ذکر کیا تھا ان کے مطابق سجاد علی شاہ پر گرائے گئے کوئٹہ میزائل جیسا ایک اور میزائل پھر سے تیار کیا جا رہا ہے۔ ملک کی سپریم عدلیہ کو بدنام کرنے کیلئے ان پر دھوئیں کے بم پھینکنے کیلئے اداکاروں کی بریفنگ جاری ہے۔ آپ کو یاد تو ہو گا کہ کوئی دو برس پیشتر پشاور ہائیکورٹ کے ایک جج کی گاڑی کو بنوں چھاؤنی کے سکیورٹی پوائنٹ پر کھڑے فوجیوں نے روک کر جو گستاخی کی تھی‘ ان جج صاحب کی طبیعت پر اس قدر گراں گزری کہ انہوں نے اگلے روز عدالت میں ہنگامہ کیا تو ساتھ ہی لبرلز اور نواز لیگ کے سوشل میڈیا نے فوج کے لتے لینے شروع کر دیئے تھے۔ ان سے معذرت کی گئی‘ اس کے باوجود ان کا غصہ ٹھنڈا نہ ہو سکا‘ اور وہ ملک کی اس اہم ترین شخصیت کے قریب ترین ہو گئے‘ جس کے دل میں فوج کے خلاف نفرت کے سوا اور کچھ نہیں۔ ان جج صاحب نے اپنے اور اپنے ”دوست‘‘ کے سمجھے گئے دشمن سے ملٹری چیک پوسٹ پر روکے جانے کی ذلت کا بدلہ لینے کا فیصلہ کر لیا… اور جیسے ہی وہ جج سپریم کورٹ پہنچنے میں کامیاب ہوئے تو انہوں نے وفاداری کا اظہار کر دیا۔ اب چند روز ہوئے میاں نواز کے وہ ”دوست‘‘ اپنے عہدہ جلیلہ سے ریٹائر ہو چکے ہیں‘ لیکن انہوں نے جاتے جاتے بھی بنوں چھاؤنی کے گیٹ پر سکیورٹی پوسٹ پر اپنی گاڑی روکے جانے پر میاں نواز شریف کے ایجنڈے کی تقویت کیلئے اس میں نفرت کے نئے رنگ بھرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…