ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی نائب امریکی صدر سے ملاقات کس نے ترتیب دی؟ انہوں نے امریکہ کو کون سی یقین دہانیاں کرائیں، میاں صاحب کے حق میں رام کرنے کیلئے کیا اقدام کیا؟

datetime 29  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) 1993ء میں جب اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے میاں نواز شریف کی حکومت ختم کی تھی تو اس حکم کے خلاف میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ میں اپنی بحالی کیلئے غلام اسحاق خان کے حکم کو بد نیتی پر مبنی قرار دینے کیلئے پٹیشن داخل کرنے کا فیصلہ کیا۔معروف کالم نگار منیر احمد بلوچ نے اپنے کالم میں لکھا کہ فیصلہ اقبال ٹاؤن لاہور میں‘ ایک جج کی رہائش گاہ پر ان کے بیٹے کے گھر کی چھت سے گر کر ہلاکت پر اظہار افسوس کیلئے جمع جج حضرات کی موجو دگی میں کیا گیا۔

میاں شہباز شریف کا دورہ لندن اور اب نواز شریف کی لندن اڑان کا پلان… شاہد خاقان عبا سی کا دورہ امریکہ… روپے کی قیمت میں تباہ کن کمی… پی آئی اے اور سٹیل ملز کی نیلامی کا ممکنہ فیصلہ… مریکہ اور عالمی مالیاتی اداروں کو اپنے حق میں رام کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اپنے ملٹری سیکرٹری تو ایک طرف‘ بغیر کسی ایجنڈے اور سیکرٹری خارجہ کے امریکہ کیوں اور کس مقصد کیلئے گئے تھے۔ وہاں ان کی نائب امریکی صدر سے ملاقات کس نے ترتیب دی اور وہاں سی پیک اور گوادر کے حوالے سے کیا پلان کیا گیا۔ آج نہیں تو کل‘ اس کا جواب عباسی صاحب کو دینا ہو گا۔ یہ بھی خبر ہے کہ اس ملاقات میں حسین حقانی کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ دورہ امریکہ کے دوران وہ کون سی یقین دہانیاں ہیں جو عبا سی صاحب نے ان مالیاتی اداروں کو کرائیں؟ اور میاں صاحب کے حق میں رام کرانے کیلئے پاکستان کے روپے کی قیمت اس قدر زمین بوس کر دی کہ وہ بیرونی قرضہ جو جنرل مشرف کا اقتدار ختم ہونے تک صرف 16 ارب ڈالر تھا‘ آج ”ایک سو پینتیس ارب ڈالر‘‘ تک پہنچا دیا گیا ہے۔کوئی اس بات کا تصور کر سکتا ہے کہ روپے کی قیمت پانچ روپے تک کم کرنے کا یہ فیصلہ میاں نواز شریف کی مرضی کے بغیر کیا گیا ہو گا؟ سب جانتے ہیں کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت متعدد افراد‘ جو اپنے طور پر سانس لینا بھی گناہ سمجھتے ہیں‘ میاں نواز اور شہباز شریف کی اجازت کے بغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…