جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

’’زینب نے جب اپنی ماں کو پکارا ہو گا تو اللہ تیرا عرش بھی تورویا ہو گا‘‘ پی ٹی آئی کے علی محمد خان کی قومی اسمبلی میں تقریر نے ہر کسی کو رلا دیا

datetime 13  جنوری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ننھی زینب کے قتل نے جہاں پاکستان کے عام عوام کو سوگوار کر دیا ہے وہیں سیاستدان بھی افسردہ نظر آتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے علی محمد خان کی قومی اسمبلی میں تقریر نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔تقریر کی ویڈیو انٹرنیٹ پر تیزی سے وائرل ہونے لگی۔ علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقت ننھی بچی نے جب آخری بار اپنے

ماں باپ کو پکارا ہو گا، اپنی ماں کو پکارا ہو گا، اللہ تیرا عرش بھی تو رویا ہو گا۔ کیا ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے کوئی احساس ہے یا صرف ایک دوسرے پر تنقید کرتے رہیں گے۔ جب تک اس ملک کو قرآن کی شرعی سزاؤں کی طرف لے کر نہیں جائیں گے۔ جب تک ان لوگوں کو قرآن کے مطابق سزائیں نہیں دیں گے، ہر صوبے میں یہ ہوتا رہے گا، ان کو چوکوں میں پھانسی دینی چاہئے، قرآن کے مطابق سزائیں دینی چاہئیں۔ دس بندوں کو لٹکا دیں، میں دیکھتا ہوں کہ کون اس طرح کا جرم پھر کرتا ہے۔ قرآن سے مت ڈرو، انگریز کے قانون سے ڈرو، اللہ کے غضب سے ڈرو مگر اللہ سے پیار کرو اور اللہ کے نظام سے پیار کرو اور وہ کیسے ہو گا؟ یہ مسلم لیگ (ن) کر سکتی، نہ پیپلز پارٹی اور نہ پی ٹی آئی کر سکتی ہے، ہم سب نے مل کر کرنا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب تک ایسے معاملات پر نواز شریف، عمران خان، بلاول بھٹو زرداری، مولانافضل الرحمان اور اس طرح کے دیگر لیڈران اکٹھے نہیں ہوں گے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ہمارے بچے کو کوئی تھپڑ مار دے تو ہمیں نیند نہیں آتی، میں کل زینب کے والد سے ملا ہوں تو وہ شخص میرے کندھے پر سر رکھ کر رویا ہے اور کہتا ہے کہ اسے انصاف چاہئے۔ یقین کیجئے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا تھا کہ جس قتل کا قاتل نہ ملے، اس کا گنہگار اور ذمہ دار حکمران وقت ہے اور ہم سب حکمران وقت میں آتے ہیں۔ہم بھول جائیں گے،

سپیکر صاحب ہم بھول جائیں گے، زینب ہماری بچی حضرت زینب ؓ کیساتھ جنت میں ہو گی لیکن کیا ہم اپنی بچیوں کو ایسے ہی جنت میں پہنچاتے رہیں گے۔ میری یہ دعا ہے کہ اس طرح کی کوئی اور زینب پیدا نہ ہو لیکن اس کیلئے ہمیں اکٹھا ہونا پڑے گا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…