جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

2015 سے اب تک ریپ اور قتل کے8واقعات ،تمام کیسز میں کیا چیز مشترک نکلی ،تفتیش میں سنسنی خیز انکشافات

datetime 11  جنوری‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی)قصور میں آٹھ سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے بعد قتل کے المناک واقعہ کی تحقیقات نے ضلع میں2015سے ہونے والے اسی طرح کے آٹھ کیسز کے پیچھے ایک سیریل کلر کے ملوث ہونے کی نشاندہی کردی۔میڈیا رپورٹ میں سینئر پولیس حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ زیادتی کے بعد قتل کا پہلا کیس 2015 میں درج کیا گیا تھا جس میں ایک مقامی نے ملزم کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کمسن بچی کو زیر تعمیر گھر

میں زیادتی کا نشانہ بنارہا تھا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملزم جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا جس کے بعد کمسن بچی کو بازیاب کرنے والے شخص کی مدد سے پولیس نے ملزم کا خاکہ تیار کیا جسے ریکارڈ کا حصہ بنادیا گیا۔پولیس حکام کا کہنا تھا کہ بعد ازاں بچوں کے اغوا ء کے اس طرح کے مزید واقعات سامنے آئے جن میں قصور میں پانچ لڑکیوں کا اغوا ء بھی شامل تھا۔ان 8 کیسز میں سے 3 کیسز کو حالیہ رپورٹ کیا گیا جبکہ تمام کیسز کو قصور کے اے ڈویژن، بی ڈویژن اور صدر پولیس تھانے کی حدود میں رپورٹ کیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ سینئر پولیس افسران کی ایک ٹیم نے گزشتہ سال تمام کیسز پر ایک تفصیلی تحقیقات کا آغاز کیا تھا جس میں تمام شواہد، ڈی این اے ٹیسٹ، زندہ بچ جانے والی دو لڑکیوں کے بیانات اور گواہان سمیت دیگر تفصیلات شامل تھیں۔اس تحقیقات کا آغاز گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں اسی طرح کے ایک اور کیس جس میں بچے کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا کی پیروی میں کیا گیا تھا۔ان تحقیقات کے بعد افسران اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ان تمام کیسز کے پیچھے ایک ہی شخص ملوث ہے جس کی وجہ سے ضلع میں ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں۔اس مشاہدے کو مزید پذیرائی اس وقت ملی جب زینب کیس میں حاصل کی گئی ملزم کی سی سی ٹی وی

فوٹیج اور پولیس کے ریکارڈ میں موجود خاکے میں مماثلت پائی گئی۔پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ہم نے 2015 میں پہلے کیس کے اندراج کے فوری بعد سے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کردیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پانچ ڈی این اے سیمپلز ملے تھے جنہیں تشخیص کے لیے لیبارٹری بھیجا گیا اور ان کی رپورٹس نے بھی اس بات کو واضح کردیا کہ ان تمام کیسز کے پیچھے ایک ہی شخص ملوث ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…