ہفتہ‬‮ ، 14 فروری‬‮ 2026 

حکومت کا غربت کم کیلئے462ارب خرچ کرنے کا دعویٰ لیکن حقیقت کیا ہے،رپورٹ میں چشم کشا انکشافات

datetime 5  جنوری‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے تخفیف غربت کے منصوبوں کیلیے462 ارب 70کروڑ روپے خرچ کرنے کادعوی توکیا ہے لیکن اس میں سے تین چوتھائی رقم تنخواہ ادائیگی سمیت غیرترقیاتی اخراجات پرخرچ ہوگئی ہے۔رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی تخفیف غربت اسٹریٹجی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں462 ارب 70کروڑ

روپےخرچ کیے جو پچھلے مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ساڑھے10فیصد یا 44ارب روپے زیادہ ہیں تاہم 354ارب 40کروڑروپے کی خطیررقم تنخواہوں اوردیگر واجبات وذمے داریوں کی ادائیگی پر خرچ ہوئی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق یہ رقم سڑکوں کی تعمیر،ماحولیاتی تحفظ،تعلیم، صحت،زراعت،دیہی ترقی،امن وامان ،نظام انصاف اور سبسڈی کی ادائیگیوں پر خرچ ہوئی ہے۔ ان تمام مدوں میں اخراجات کوجمع کرکے تخفیف غربت کے اخراجات قرار دیا گیا ہے۔وفاقی اورچاروں صوبائی حکومتوں نے پہلی سہ ماہی کے دوران 25ارب 20کروڑروپے سبسڈی دینے کی مدمیں خرچ کیے جو پچھلے مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی نسبت 30.7 فیصد زیادہ ہے۔غریبوں کیلیے مجموعی اخراجات کی مدمیں ان اسبسڈیزکاحصہ محض 5.4 فیصد تھا۔مخصوص اہداف یا لوگوں تک سبسڈی دینے اوربینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے تحت 24 ارب روپے دیے گئے۔وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی جانب سے غریبوں کیلئے رقوم خرچ کرنے میں اضافے کے باوجود عملی طور پر صورتحال میں تبدیلی نہیں آئی ،ملک میں غربت اورعدم مساوات میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے اورحکومت غربت کی زندگی گزارنے والوں کی اصل تعداد کا پتہ چلانے کیلیے تیارنظر نہیں آتی۔سوشل سیکیورٹی اور بہبود پر7ارب 90کروڑ روپے خرچ کیے گئے جبکہ پچھلے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 9 ارب 70کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے۔ سوشل

سیکیورٹی پرخرچ رقوم میں ساڑھے 18 فیصدکمی کی وجہ سندھ حکومت کی جانب سے کم رقوم خرچ کرنا ہے ۔وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے تعلیم پر160ارب64 کروڑخرچ کیے جوپچھلے مالی سال کی اسی مدت میں خرچ رقم سے17.2 فیصد 23ارب60 کروڑ روپے زیادہ ہے ،ان میں سے 92.5 فیصداخراجات جاریہ تھے ۔غریبوں

کیلیے اخراجات کی مد میں شعبہ صحت پرخرچ رقوم 10.7 فیصدسے بڑھ کر ساڑھے 12فیصد ہوگئیں۔علاوہ ازیں ساتویں این ایف سی ایوارڈکے تحت صوبوں کو صحت اورتعلیم کی مد میں کئی سو ارب روپے اضافی ملنے کے باوجود ان دونوں شعبوں میں سماجی اشاریے روز بروزگرنے پرتشویش کااظہارکیا جاتا رہا ہے جبکہ اس ضمن میں تجویز دی جا رہی ہے کہ صوبوں کواضافی وسائل کی منتقلی اورسماجی اشاریوں کی بہتری سے جوڑا جائے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…