جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

نہ نومن تیل جمع ہوگا نہ رادھا ناچے گی، عمران خان آٹھ ارب نہیں صرف ایک ارب لا کر دکھا دیں، سارا پیسہ کس کے پیٹ میں جا رہا ہے؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 9  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی میں سابق ڈپٹی سپیکر اورپاکستان پیپلزپارٹی کے پی کے جنرل سیکریٹری فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کے پی حکومت کو غیرپختون ٹولہ ریموٹ کنٹرول کے تحت چلا رہا ہے۔ عمران نیازی کا یہ دعویٰ کہ وہ حکومت میں آنے کے بعد آٹھ ہزار ارب روپے لائیں گے

نہ نومن تیل جمع ہوگا نہ رادھا ناچے گی کے مترادف ہے۔ کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے عمران نیازی آٹھ ہزار ارب روپے نہیں صرف ایک ارب روپے لا کر دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص غریب مریضوں کے لئے ملنے والے صدقات اور خیرات کی رقم خورد برد کرے وہ ملک اور قوم کو کیا دے سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ کے پی واحد صوبہ ہے جہاں یونیورسٹیوں کی فیس میں اضافہ کیا گیا ہے جو اس بات کی عکاسی ہے کہ جعلی خان نہیں چاہتے کہ غریب پختون عوام کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کے پی معدنی ذخائر بھی جعلی خان کی اے ٹی ایم مشین کے قبضے میں ہے۔ حالت یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات نہیں، محکمہ تعلیم کی حالت خراب ہے اور تعمیری کام بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ صوبے کا سارا پیسہ جعلی خان کے پیٹ میں جا رہا ہے اور جعلی خان پختون عوام کے خون اور پسینے پر پل رہے ہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاناما چور قانون کی گرفت میں آچکا اب چندہ چور کپتان کی باری آنے والی ہے کیونکہ دونوں پر امانت میں خیانت کا الزام ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ قوم حیران ہے کہ جس شخص کا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں 400کنال پر تعمیر پرآسائش محل میں کیسے رہ سکتے ہیں؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…