پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

کراچی میں 10 کھرب روپے کی زمینوں پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے قبضہ کا انکشاف، یہ زمینیں کن علاقوں میں ہیں اور کن مقاصد کے لیے مختص تھیں؟ حیران کن انکشافات

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں کھربوں روپے کی زمینوں پر قبضے کا انکشاف ہواہے، تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کے ڈی اے کی دس کھرب سے زائد کی زمینوں پر قبضہ ہے، سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد کے ڈی اے نے جہاں رفاہی پلاٹوں سے قبضہ ختم کرانے کے لیے

آپریشن شروع کر دیا ہے وہیں شہر بھر میں رفاہی پلاٹوں کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جا رہا ہے، ذرائع کا کہناہے کہ کے ڈی اے کی چار سو ایکڑ زمین پر شہر بھر میں قبضہ کیا جا چکا ہے، دس کھرب سے زائد مالیت کی یہ زمینیں ہیں جن پر قبضہ کیا گیا ہے، صرف ضلع وسطی میں نارتھ کراچی اور فیڈرل بی ایریا میں 47 ایکڑ زمین کی مالیت تقریباً سات ہزار ارب روپے بتائی جا رہی ہے جو کہ چائنہ کٹنگ کی نذر ہو چکی ہے، یہ زمینیں پارک ، کھیل کے میدان اور ہسپتالوں اور دیگر کاموں کے لیے وقف کی گئی تھیں جن پر قبضہ کر لیاگیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں سمیت بااثر افراد کی جانب سے شہر میں کے ڈی اے کے رفاہی پلاٹوں پر قبضہ کیاگیا ہے جس میں نارتھ ناظم آباد ، گلستان جوہر، لانڈھی، کورنگی اور کشمیر روڈ کے علاقے شامل ہیں، تقریباً 400 ایکڑ سے زیادہ زمین ہے اور بارہ ہزار سے زائد پلاٹ ہیں جن پر قبضہ کیاگیا ہے، سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد ڈی جی کے ڈی اے نے اہم اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں اس تمام ڈیٹا کو از سر نو مرتب کیا جائے گا اور پھر تحقیقاتی اداروں اور سکیورٹی سمیت سندھ حکومت کو بھی فراہم کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…