جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں 10 کھرب روپے کی زمینوں پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے قبضہ کا انکشاف، یہ زمینیں کن علاقوں میں ہیں اور کن مقاصد کے لیے مختص تھیں؟ حیران کن انکشافات

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں کھربوں روپے کی زمینوں پر قبضے کا انکشاف ہواہے، تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کے ڈی اے کی دس کھرب سے زائد کی زمینوں پر قبضہ ہے، سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد کے ڈی اے نے جہاں رفاہی پلاٹوں سے قبضہ ختم کرانے کے لیے

آپریشن شروع کر دیا ہے وہیں شہر بھر میں رفاہی پلاٹوں کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جا رہا ہے، ذرائع کا کہناہے کہ کے ڈی اے کی چار سو ایکڑ زمین پر شہر بھر میں قبضہ کیا جا چکا ہے، دس کھرب سے زائد مالیت کی یہ زمینیں ہیں جن پر قبضہ کیا گیا ہے، صرف ضلع وسطی میں نارتھ کراچی اور فیڈرل بی ایریا میں 47 ایکڑ زمین کی مالیت تقریباً سات ہزار ارب روپے بتائی جا رہی ہے جو کہ چائنہ کٹنگ کی نذر ہو چکی ہے، یہ زمینیں پارک ، کھیل کے میدان اور ہسپتالوں اور دیگر کاموں کے لیے وقف کی گئی تھیں جن پر قبضہ کر لیاگیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں سمیت بااثر افراد کی جانب سے شہر میں کے ڈی اے کے رفاہی پلاٹوں پر قبضہ کیاگیا ہے جس میں نارتھ ناظم آباد ، گلستان جوہر، لانڈھی، کورنگی اور کشمیر روڈ کے علاقے شامل ہیں، تقریباً 400 ایکڑ سے زیادہ زمین ہے اور بارہ ہزار سے زائد پلاٹ ہیں جن پر قبضہ کیاگیا ہے، سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد ڈی جی کے ڈی اے نے اہم اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں اس تمام ڈیٹا کو از سر نو مرتب کیا جائے گا اور پھر تحقیقاتی اداروں اور سکیورٹی سمیت سندھ حکومت کو بھی فراہم کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…