پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

ہم آئی ایس آئی سے مایوس ہو گئے ہیں کیونکہ۔۔ سپریم کورٹ کے ایسے ریمارکس کے آپ بھی ہکا بکا رہ جائینگے

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیض آباد دھرنے کے حوالے سےازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے خفیہ ایجنسیوں آئی بی اور آئی ایس آئی کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹس پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق

جی ٹی وی کے مطابق جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا یہ لوگ باہر سے آئے، آئی ایس آئی کو معلوم نہیں، آئی ایس آئی اتنا طاقتور ادارہ ہے، سنجیدگی دکھائیں، اس سے اچھی رپورٹ تو میڈیا دیگا ٗ اٹارنی جنرل آپ میڈیا میں سے کسی کا انتخاب کریں وہ بہتر رپورٹ دیں گے، کیا دھرنے والے لوگوں کا کوئی کاروبار نہیں، دھرنے والے کیا ملنگ فقیر ہیں ٗان کا ذریعہ معاش کیا ہے اور ان کے پیچھے کون ہے۔ کیا کوئی فارن فنڈنگ تو نہیں ہو رہی، دھرنے والوں نے مجھے گالیاں دیں تو ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں جب کہ آئندہ سماعت پر آئی بی اور آئی ایس آئی کے اعلیٰ حکام موجود ہوں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ خفیہ اداروں کی رپورٹس پر مایوسی ہوئی ہے، ان میں کوئی تفصیل نہیں ہے ، رپورٹس دوبارہ پیش کی جائیں۔بتایا جائے کہ دھرنے کے پیچھے کون ہے اور اس کا فائدہ کس کو ہورہا ہے، دھرنے میں کون کون ہیں؟ کہیں غیر ملکی تو شامل نہیں؟ دھرنے والوں کو غیر ملکی فنڈنگ تو حاصل نہیں، انٹیلی جنس اپنا کام ٹھیک نہیں کر رہی ، آئی ایس آئی ملک کا مضبوط ادارہ ہے اسے ڈیلیور کرنا چاہیے۔سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا از خود نوٹس کیس کی مزید سماعت اگلی جمعرات تک ملتوی کرتے ہوئے آئی بی اور آئی ایس آئی کے اعلیٰ افسران کو بھی طلب کرلیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…