جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

معصوم بچی باپ کے کہنے پر خودہی لیٹی اور ذبح ہوگئی،رائے ونڈ میں اپنی6سالہ بیٹی کو چھری سے ذبحہ کرنے والاباپ گرفتار ،بیٹی کو ذبح کیوں اور کس لئے کیا؟ لرزہ خیزانکشافات

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

رائے ونڈ (مانیٹرنگ ڈیسک) دو نومبر کو اپنی6  سالہ سگی بیٹی کو بیدردی کیساتھ چھری سے ذبحہ کرنے والے باپ کو انویسٹی گیشن پولیس تھانہ سٹی رائے ونڈ نے گرفتار کرلیا ۔تھانہ سٹی کے علاقہ دھوندے کے رہائشی ملزم باپ بھٹہ مزدور منظور کے مطابق اس کی لاہورمیں ماموں زاد سے پسند کی شادی ہوئی جو کہ ماں بیٹی شروع سے ہی بدکردار تھیں ،شادی کے بعد اس کے گھر پانچ بچے دو بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں ،چند ماہ قبل اس کی بیوی

اپنی فرمائشیں پوری نہ ہونے پر ناراض ہوکر میلے چلی گئی اور دو بچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ساتھ لے گئی جبکہ دوبچیاں اور ایک بیٹا اس کے پاس چھوڑ گئی ۔ملزم منظور کے مطابق وہ اپنے بچوں کو پال نہ سکتا تھا اور اس کی بہنیں ،بہنوئی اورماں اس کو طعنے دیتے تھے ۔سسرال بھی گیا لیکن اس کی بیوی اور ساس نے اس کو مار پیٹ کر واپس بھیج دیا ادھر اس کے گھر والے بھی اس کی اولاد کو رکھنے کو تیار نہیں تھے ،اس لئے میں نے سوچا کہ سب مر جاتے ہیں تاہم اس نے پہلے خود گندم میں رکھنے والی گولیاں کھاکر مرنے کی کوشش کی لیکن جب یہ سوچا کہ اگر میں مرگیا تو میری اولاد دربدر ٹھوکریں کھائیں گی تاہم اس نے پہلے بچوں کو اور بعد میں خود کو مارنے کا پروگرام بنایا ااور یکم نومبر کو رات کے وقت اپنے تینوں بچوں کیساتھ گھر سے باہر کھیتوں میں چلا گیا ،تیز دھار چھری اس نے بازار سے پہلے ہی خرید رکھی تھی ۔منظور کے مطابق اس کی بچیاں بڑی تابع دار تھیں ،جب اس نے 6سالہ بچی کرن کو کھیتوں میں لیجاکر لیٹنے کا کہا تو وہ چپکے سے آنکھیں بند کرکے لیٹ گئی اور پھر اس نے اس کی گردن پر چھری چلا کر اس گردن کاٹ دی ،دودوسرے بچے پاس ہی کھڑے دیکھ کر ششدر رہ گئے ،بعد میں اس کا دوسرے بچوں کو مارنے کا حوصلہ نہ پڑا اور گھر آکرلیٹ گیااور اگلے روز سارا واقعہ بتایا لیکن گھر والوں نے یقین کرنے کی بجائے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کو کہیں بیچ آیا ہے لیکن جب دوسرے بچوں نے تصدیق کی تو انہوں نے صبح کے وقت جاکر دیکھا تو کرن کی نعش کھیتوں میں پڑی تھی ۔ملزم منظور نے کہا کہ اب اس کو بھی پھانسی دیدی جائے وہ جینا نہیں چاہتا لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کی بیوی ،ساس بہنوں اور بہنوئی کو بھی سزا ملنی چاہئے جو اس کو اکساتے رہے اور طعنے مار مار کر ذہن مفلوج کردیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…