جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سرکاری ملازمین کو پرائیویٹ رہائش کی رینٹل سیلنگ کی تنخواہ کے ساتھ فراہمی،بڑا فیصلہ کرلیاگیا

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینٹ نے مجموعہ ضابطہ دیوانی (ترمیمی) بل 2017ء کی منظوری دیدی۔ پیر کو اجلاس کے دوران سینیٹر اعظم سواتی نے تحریک پیش کی کہ مجموعہ ضابطہ فوجداری دیوانی 1908ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل مجموعہ ضابطہ دیوانی (ترمیمی) بل 2017ء قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے۔ حکومت کی طرف سے مخالفت نہ کرنے پر چیئرمین نے بل کی ایوان بالا سے شق وار منظوری حاصل کی۔

سینیٹر اعظم سواتی نے بل میں بعض ترامیم پیش کیں جن کی ایوان بالا نے منظوری دیدی۔ چیئرمین نے بعد ازاں بل حتمی منظوری کے لئے ایوان میں پیش کیا۔ ایوان بالا نے بل کی منظوری دیدی۔ اجلاس کے دور ان وفاقی حکومت کے زیر انتظام زرعی زمین اور پہاڑی علاقہ جات کو رہائشی اور تجارتی زمین میں تبدیل کرنے پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے قرارداد کی منظوری دیدی گئی اجلاس کے دوران سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان سفارش کرتا ہے کہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام زرعی زمین اور پہاڑی علاقہ جات کو رہائشی اور تجارتی زمین میں تبدیل کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔ حکومت نے قرارداد کی مخالفت نہیں کی۔ ایوان بالا نے قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔ اجلاس کے دور ان سرکاری ملازمین کو پرائیویٹ رہائش کی رینٹل سیلنگ کو ان کی تنخواہ کے ساتھ فراہم کرنے کے حوالے سے قرارداد کی منظوری دیدی گئی۔ اجلاس کے دوران سینیٹر محسن عزیز نے قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان سفارش کرتا ہے کہ حکومت سرکاری ملازمین کو پرائیویٹ رہائش کی رینٹل سیلنگ کو ان کی تنخواہ کے ساتھ فراہم کرے تاکہ انہیں غیر ضروری دفتری کارروائیوں سے نجات حاصل ہو سکے۔ چیئرمین نے کہا کہ حکومت کی طرف سے متعلقہ وزیر موجود نہیں اس لئے یہ تصور کیا جائے گا کہ حکومت اس قرارداد کی مخالف نہیں۔ ایوان بالا نے قرارداد کی منظوری دیدی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…